خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 158
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۵۸ خطبہ جمعہ ۱۹ اگست ۱۹۷۷ء جب کامل شریعت آگئی اور اس نے فرقان ہونے کا دعویٰ کیا تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ (البقرة : ۱۸۷) اس کی ایک تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمائی ہے کہ جب خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے یہ پوچھیں کہ اس شریعت پر ہم ایمان لے آئے ہیں اب ہمارے اور پہلوں کے درمیان قرآن کریم نے کیا فرق، کیا تمیز پیدا کی ہے، ہم میں اور پہلی شریعتوں کے ماننے والوں میں شریعت اسلامیہ نے کیا امتیاز پیدا کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ دیا فانی قریب کہ پہلوں کو دیکھو وہ میرے قرب سے محروم ہو چکے ہیں میرے دربار سے دھتکارے ہوئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر اور آپ کو اُسوہ بنا کر اور قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کر کے تمہارا یہ مقام ہے کہ تم ان کی طرح دور اور مہجور نہیں ہو بلکہ میرے مقرب ہو فَإِنِّي قَرِيب تم میں اور تمہارے غیر میں امتیاز یہ ہے کہ میں مسلمان کے قریب ہوں‘ أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إذَا دَعَانِ اور جب وہ مجھ سے دعا مانگتا ہے تو میں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں اور اپنے الہام کے ذریعے اس قبولیت کی بہتوں کو بشارت دیتا ہوں لیکن یہ شرط اپنی جگہ قائم ہے کہ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي بشر طیکہ تم میرے حکم کو قبول کرو اور اپنے ایمان پر حقیقی طور پر ثابت قدم رہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ دعا نتیجہ ہے ایک اور چیز کا اور وہ سلسلہ چلتا ہے فضل سے۔اصل یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لا تا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شناخت کرتا ہے تو اس میں اور ایک غیر مسلم میں جو امتیاز پیدا کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کر کے وہ معرفت حاصل کرتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کی صحیح شناخت کرتا ہے، اس کی عظمت اس کے دل میں بیٹھتی ہے اور اس کی کبریائی اور اس کے جلال سے وہ آشنا ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں ایک ہی وقت میں ایک ہی ہستی اللہ کے متعلق اس کے دل میں محبت اور خوف پیدا ہوتا ہے اور پھر اس کے نتیجہ میں اسے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔یہ ایک لمبا مضمون ہے کہ کس طرح فضل کے نتیجے میں مقبول دعا کا دروازہ کھلتا ہے۔اس کے متعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک لمبا حوالہ پڑھ کر سنادیتا