خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 109 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 109

خطبات ناصر جلد ہفتم 1+9 خطبہ جمعہ ۲۷ رمئی ۱۹۷۷ء پر وہ تو گل کر سکتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے باقی کسی پر توکل نہیں کر سکتے۔انسان کو زندگی میں بہت سے جھٹکے لگتے ہیں لیکن ایک مومن کی صدا اور اس کا اعلان یہی ہے کہ حسبى الله میرے لئے اللہ کافی ہے۔میں نے بتایا تھا کہ ایک موقع پر جب ہم بظاہر تکلیف میں ڈالے گئے تھے تو وہاں بڑا لطف آیا۔اس وقت ایک شخص کو میں نے یہی کہا تھا کہ تجھ سے جو کوئی بات کرے تو یہی کہا کر کہ مولا بس۔میرے لئے اللہ ہی کافی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور اس کو اس تکلیف سے نجات دے دی۔میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا سلوک یہ ہے کہ بعض دفعہ ذہن میں کوئی مضمون آتا ہے، بعض دفعہ جماعتی لحاظ سے ضرورت ہوتی ہے اور میں اس پر خطبہ دیتا ہوں۔بعض دفعہ ادارے مجھے تو جہ دلاتے ہیں کبھی انصار اللہ بھی خدام الاحمدیہ کبھی تحریک جدید، کبھی وقف جدید، کبھی صدر انجمن احمد یہ اور اسی طرح کبھی دوسرے ادارے وقف عارضی وغیرہ کہ اس امر کے متعلق یاد دہانی کروادیں اور کبھی خود دماغ میں کوئی مضمون آتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ بیان کر دوں لیکن بسا اوقات خدا تعالیٰ کا میرے ساتھ یہ دستور ہے، بڑا پیارا اور پیار کرنے والا ربّ ہے اور اکثر میرے خطبے ایسے ہیں کہ جمعہ والے دن صبح جب میں تلاوت کرتا ہوں تو تلاوت کرتے ہوئے میری آنکھ کو کوئی آیت قرآنی پکڑتی ہے اور پھر مجھے آگے نہیں ملنے دیتی۔پھر میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں۔پھر میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا منشا یہی ہے کہ میں اس آیت پر خطبہ دوں۔پھر میں سوچتا ہوں اور لغت دیکھتا ہوں، تیاری کرنی ہوتی ہے کیونکہ تفسیر کرنا بڑی ذمہ داری کا کام ہے اور سب سے بوجھل دن میں سمجھتا ہوں کہ سب خلفاء پر یہی آتا ہوگا۔میرا تو یہی تجربہ ہے کہ جمعہ کا دن بڑا بوجھل دن ہے۔اتنی ذمہ داری ہے جمعہ کا خطبہ دینا، اتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ انسان استغفار کرتا ہے، بے حد استغفار کرتا ہے اور دعائیں کرتا ہے، خدا تعالیٰ پھر رحم کرتا ہے۔پچھلے جمعہ کے دن میں تلاوت کر رہا تھا تو یہ آیتیں سامنے آ گئیں اور ان آیتوں نے میری آنکھ کو پکڑا اور مجبور کیا کہ میں ان پر غور کروں۔پھر میں نے غور کیا اور مجھے بڑا لطف آیا کیونکہ ان میں الیسَ اللهُ بِكَافٍ عبده کی بڑی عجیب تفسیر بیان کی گئی ہے۔درجہ بدرجہ اس مضمون کو خدا تعالیٰ نے آگے چلا یا ہے اور پھر قُل حَسْبِيَ اللهُ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكَّلُونَ پر اسے ختم کیا ہے۔اس میں بہت حسین