خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 106
خطبات ناصر جلد ہفتم 1+4 خطبہ جمعہ ۲۷ رمئی ۱۹۷۷ء وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہدایت یافتہ ہیں اور جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہدایت یافتہ ہوں ساری دنیا انہیں کا فراور ضال کہتی رہے اور مضال بناتی رہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہدایت یافتہ ہے حقیقتا وہی ہدایت یافتہ ہے عقلاً بھی اور شریعت کی رو سے بھی۔پھر فرما یا اليْسَ اللهُ بِعَزِيزِ ذِی انتقام یعنی محض یہ نہیں کہ انسانوں کا ایک گروہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہدایت سے دور پڑ گیا اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ضال اور مضل ہو گیا اور دوسرے گروہ کو خدا تعالیٰ نے ہدایت یافتہ پایا اور ہدایت یافتہ قرار دیا۔محض یہاں بات ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اليْسَ اللهُ بِعَزِيزِ ذِى انتقام خدا تعالیٰ کی نگاہ میں جو گمراہ ٹھہرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں جو ہدایت یافتہ ٹھہرتے ہیں ان سب کے اعمال کا نتیجہ نکلتا ہے۔جو گمراہ ٹھہر تے ہیں ان کو ان کی بداعمالیوں کا بدلہ ملتا ہے اور جو ہدایت یافتہ ٹھہرتے ہیں ان کو ان کے اعمال صالحہ کا ثواب ملتا ہے کیونکہ اليْسَ اللهُ بِعَزِيزِ ذی انتقام کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ عزیز بھی ہے اور ذی انتقام بھی ہے۔عزیز کے معنی ہیں اس طرح پر غالب کہ کوئی اس پر غالب نہ آسکے اور اپنی چلانے والا اور لا يُعْجِزُةُ اَحَدٌ اس کو کوئی عاجز کرنے والا نہ ہو، اس کو عزیز کہتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو میرے بندے بن جاتے ہیں اور مجھے ہی کافی سمجھتے ہیں ان کو میں ثواب دیتا ہوں ان کو میں جزا دیتا ہوں۔ان کے لئے میں نے جنتیں بنائی ہیں اور جن کو میں گمراہ ٹھہراتا ہوں ان کو میں 6116 سزا دیتا ہوں کیونکہ میں ذی انتقام ہوں ان کی اصلاح کے لئے میر ا غضب بھڑکتا ہے۔پھر اگلی آیت میں عزیز اور ذی انتقام کی تشریح اور تفسیر آئی ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والا اللہ ہے اور جو خالق ہے وہی مالک ہے۔اس نے جو کائنات جو عالمین اور ہر دو جہان پیدا کئے ہیں ان پر اس کی حکومت چلتی ہے اس لئے وہی عزیز بھی ہوسکتا ہے اور وہی ذی انتقام بھی بن سکتا ہے۔پس بتاؤ تو سہی کہ مَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللهِ کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اِن اَرَادَ نِي اللهُ بِضُر اگر اللہ تعالیٰ ضرر پہنچانے کا ارادہ کرے تو هَلْ هُنَّ كَشِفْتُ ضُرة کیا وہ لوگ جو خالق نہیں اور جن کا حکم اس کائنات میں چلتا نہیں ، جو مالک نہیں اور متصرف بالا رادہ نہیں ، جن کے احاطہ اقتدار میں کوئی چیز بھی نہیں تو کیا جب اللہ جو خالق اور مالک ہے اور جس کے احاطہ اقتدار میں