خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 69 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 69

خطبات ناصر جلد ہفتم ۶۹ خطبہ جمعہ ۱/۸ پریل ۱۹۷۷ء جماعت احمدیہ مولا بس“ کا نعرہ لگاتے ہوئے فرمائی:۔پیار ومحبت سے دلوں کو جیت رہی ہے خطبه جمعه فرموده ۸ را پریل ۱۹۷۷ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے ان آیات کریمہ کی تلاوت وَمَا أُوتِيتُم مِنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا ۚ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَ ابْقَى أَفَلَا تَعْقِلُونَ - اَفَمَنْ وَعَدْنَهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَا قِيْهِ كَمَنْ مَّتَعَنْهُ مَتَاعَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ۔(القصص: ۲۱ ، ۶۲) پھر حضور انور نے فرمایا:۔اس دنیا میں انسان کو جو کچھ بھی ملتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتا ہے اور یہ عطا ایک خاص مقصد کے لئے انسان پر نازل ہوتی ہے۔انسان کا ذہن ہے، انسان کی طاقت ہے، انسان کی استعداد ہے ، اخلاقی طاقتیں اور روحانی قوتیں ہیں جو انسان کو دی گئی ہیں۔غرضیکہ انسان کو جو کچھ بھی ملا ہے وہ ایک خاص مقصد کی خاطر ا سے ملا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان دو آیات میں جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے فرمایا ہے انسان میں سے دو گروہ بن جاتے ہیں۔ایک وہ گروہ ہے کہ جو کچھ انہیں ملتا ہے اسے وہ صرف مَتَاعُ الْحَيوة