خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 545
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۵۴۵ خطبہ جمعہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۷۸ء حاصل کر سکتے ہو۔اتنا اس لئے نہیں کہ جتنا پیالہ ہو گا اتنی ہی چیز اس میں آئے گی جتنی استعداد ہوگی ، اس کے مطابق ہی خدا تعالیٰ کا پیار حاصل ہو گا لیکن کیفیت کے لحاظ سے جس قسم کا پیار محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے حاصل کیا اسی کیفیت کا پیار آپ کی ابتاع کرنے والا بھی اگر اس کے اعمال خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مقبول ہو جائیں تو خدا تعالیٰ سے حاصل کر سکتا ہے۔یہ معنی ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے۔شفع جو شفاعت کا مصدر ہے اس کے معنی ہیں اس جیسا ہو جانا، زوج بن جانا۔پس جب خدا تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کیا تو جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا ہو جائے گا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ خدا تعالیٰ اس سے پیار نہ کرے اور اس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت ہمیشہ ہی کامیاب ہے یہ نہیں کہ آپ کی کوئی شفاعت منظور ہو جائے گی اور کوئی منظور نہیں ہوگی بلکہ اس معنی کے لحاظ سے جو میں آپ کو بتارہا ہوں آپ کی ہر شفاعت منظور ہوگی کیونکہ ہر وہ شخص جو أسوة نبي اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہے اور اس کے اعمال مقبول ہوتے ہیں اور اس کی صفات پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کا رنگ چڑھ جاتا ہے جو کہ خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ ہے تو جو شخص خدا کے قریب آگیا اور پاک ہو گیا اور مظہر بن گیا خدا تعالیٰ اس سے پیار کرے گا۔یہ نہیں ہوسکتا کہ خدا تعالیٰ کسی کو کہے کہ ہے تو تو پاک اور پاکیزہ اور تیرے اعمال مقبول بھی ہیں لیکن میں تجھ سے پیار نہیں کرتا ، ہماری عقل اسے نہیں مانتی۔پس محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہر لحاظ سے اکمل اور کامل ہیں اور شفیع ہونے کے لحاظ سے بھی کامل ہیں اور آپ اُمت محمدیہ کو ایسے مقام تک لے گئے جہاں کوئی اور نبی نہیں لے جاسکتا۔میں نے بالکل سادہ الفاظ میں آج اس مفہوم کو ادا کیا ہے۔کچھ زیادہ گہرائی میں جا کر میں ایک اور خطبہ دینا چاہتا ہوں تا کہ شفاعت کے مسئلہ کا صحیح مفہوم سامنے آجائے کیونکہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شفاعت کا مطلب ہے کہ بس ہم نے یہ اعلان کر دیا کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور اب ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہے اپنے اعمال کو درست کرنے کی ، ان پر محد صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ چڑھانے کی ، جن راہوں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چلے ان راہوں پر چلنے کی اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اس قسم کا ایثار اور قربانی پیش کرنے کی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کی۔بس