خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 487
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۸۷ خطبه جمعه ۳/ نومبر ۱۹۷۸ء ہو تو ہمارا یہ شہر ربوہ جو ہمارا مرکز ہے یہ ایک غریب اور مسکین دلہن کی طرح صاف و شفاف ہو۔نمائش کی ہمیں ضرورت نہیں لیکن جس طرح ایک دیہاتی دلہن ہوتی ہے نہائی دھوئی صاف کپڑوں میں ملبوس اور اپنے حال پر راضی اور جو کچھ خدا نے اسے دیا ہے اس پر خوش اسی طرح ربوہ کو صاف کر دیں۔شو تو نہ ہم کر سکتے ہیں اور نہ ہمیں کرنے کی خواہش ہے لیکن ایک چمکتا ہوا چہرہ اور منور دل اور صاف گلیاں اور پاک اور مطہر فضا باہر سے آنے والے، اپنے بھی اور دوسرے بھی محسوس کریں۔دوسری چیز رضا کار ہیں جلسہ سالانہ کا یہ عجیب مقام ہے کہ سوائے ان کاموں کے جو رضا کارانہ طور پر ہو ہی نہیں سکتے باقی تمام کام رضا کارانہ طور پر سرانجام پاتے ہیں۔مثلاً نانبائی کا کام ہمارا جامعہ احمدیہ کا طالب علم تو نہیں کر سکتا۔اس کے لئے مزدور ہیں وہ بھی ہمارے بھائی ہیں اور وہ بڑا کام کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزا دے لیکن اتنے بڑے اجتماع کے نظام کا بہت بھاری حصہ رضا کارانہ طریق پر چلتا ہے۔دنیا اتنی آگے نکل گئی ہے مگر ہمارے جلسے کو دیکھ کر وہ بہت حیران ہوتے ہیں اور اگر ان کو حقیقت بتائی جائے تو وہ مان ہی نہیں سکتے۔مجھے یاد ہے بہت دیر کی بات ہے۔پارٹیشن کے بعد جب یہاں لنگر ا پنی وسعت کے لحاظ سے ابھی آدھے بھی نہیں ہوتے تھے اور مہمان آدھے کے قریب ہوتے ہوں گے تو ایک دفعہ انگلستان سے ایک عورت مہمان کے طور پر آئی۔وہ جہاں ٹھہری ہوئی تھی ان کو کہنے لگی کہ اگر میں نے واپس جا کر کہا کہ میں یہ دیکھ کر آئی ہوں کہ اتنے مہمانوں کو ایک وقت میں کھانا کھلا دیا جاتا ہے (اس وقت تیس، چالیس ہزار کے درمیان مہمان تھے ) اور کوئی بدنظمی نہیں ہوتی تو جن سے میں یہ باتیں کروں گی جو کہ میں نے خود دیکھی ہوں گی تو وہ سمجھیں گے کہ میں وہاں سے پاگل ہو کر واپس آئی ہوں ، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔بہر حال اس کے لئے رضا کار چاہئیں لیکن مخلص مستعد پیار سے کام کرنے والے اور خدا تعالیٰ کی اس نعمت کو سمجھنے والے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو خدمت کا موقع دیا ہے اور اس عظیم جلسے کی ذمہ داری کو جو اپنی اپنی عمر کے لحاظ سے ان کے سپرد کی جائے وہ ادا کرنے والے ہوں۔اب جلسے میں بہت وسعت پیدا ہو چکی ہے۔پہلے قادیان میں تو میرے خیال میں ایک رضا کار بھی باہر