خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 34 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 34

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۳۴ خطبہ جمعہ ۱۱ فروری ۱۹۷۷ء ہی ہے۔اگر انسان بیمار پڑا ہو تو مسجد میں آنا اس کے لئے فرض نہیں۔شر کے معنی ہمیں قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتے ہیں کہ شیطان کی پیروی کرنا شر ہے اور روح القدس جو ہر انسان کی راہنمائی کے لئے انسان کے ساتھ ہے جیسا کہ شروع میں میں نے کہا کہ داعی الی الخیر کی قوت بھی انسان کو عطا ہوئی ہے تو روح القدس کی ہدایت اور راہنمائی میں اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو تلاش کرنا خیر ہے۔شر جہنم کی طرف لے جاتی ہے اور خیر اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کی طرف لے جاتی ہے اور ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمُ (التَّحريم :-) اس میں دو حکم ہیں ایک قُوا أَنْفُسَكُم اور دوسرا قُوا أَهْلِيكُمْ اول اپنے نفس کو بچاؤ نار سے اور ان چیزوں سے جو دوزخ کی طرف اور اللہ تعالیٰ کے قہر کی جہنم کی طرف لے جانے والی ہیں۔پہلے نفس کو جہنم سے بچانے کا حکم ہے اور اسلام میں جو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے وہ اپنے نفس کو نارِ جہنم سے اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے بچانے کی کوشش کو ہی دی گئی ہے۔قُوا أَنْفُسَكُم اپنے نفسوں کو بچاؤ۔دوسری جگہ فرما یا لَا يَضُرُّكُهُ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ (المائدة : ١٠٦) کہ اگر تم اپنے نفسوں کو شیطان کے حملوں سے بچا کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو اختیار کر کے اس کی رضا کو حاصل کرلو گے تو جو ایسا نہیں کرتے تم پر کیا فرق پڑتا ہے اُخروی زندگی میں یا اس زندگی میں، جہاں تک جنّت کے حصول کا اور اللہ تعالیٰ کے پیار کے حصول کا تعلق ہے لیکن اسلام جہاں اس۔بات پر بہت زور دیتا ہے کہ ہر انسان سب سے پہلے اپنے نفس کا ذمہ دار ہے اور اسے یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے نفس کو خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے محفوظ رکھنے کے لئے ہر قسم کی انتہائی کوشش کرے وہاں اسلام نے ایک اجتماعی زندگی کا نقشہ بھی ہمارے سامنے کھینچا ہے اور وہ دوسرے حکم کے اندر آتا ہے کہ قُوا أَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيكُمْ یعنی اپنے اہل کو بھی نار سے بچانے کی کوشش کرو اور جہنم سے بچانے کی کوشش کرو۔اہل میں رشتہ در رشتہ سارے ہی بنی نوع انسان شامل ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تمہارا باپ ایک ہے یعنی آدم۔تم سب آدم کی نسل سے ہو۔پس اہل کے جو وسیع معنی ہیں اس میں اجتماعی زندگی کا پورا نقشہ آجاتا ہے۔ہمیں یہ حکم ہے کہ اپنی اجتماعی زندگی کو بھی نار سے بچاؤ۔شیطان کی طرف لے جانی والی کچھ چیزیں