خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 444 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 444

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۴۴ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۸ء ہم ہر جگہ تبادلۂ خیالات کرنے کو تیار ہیں اور صرف انگلستان کی کونسل آف چرچز سے ہی کیوں ، ہم کیتھولکس سے بھی تبادلۂ خیال کرنے کو تیار ہیں۔دنیا کو پتا لگنا چاہیے کہ وہ عقائد جو غلط طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے اور وہ واقعات جو حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے۔میں نے اس کا وہاں اعلان کیا اور یہ اخباروں میں بھی آگیا اور پھر انہی صاحب کو جن کے دستخط سے کونسل آف چرچز کی طرف سے دعوت نامہ ملا تھا وہاں کے مشنری انچارج عزیز بشیر رفیق صاحب کی طرف سے خط گیا کہ ہمارے امام نے آپ کا دعوت نامہ قبول کر لیا ہے اور وہ اس قسم کی بحث یا تبادلۂ خیال کا انتظام کریں گے لیکن بڑا لمبا عرصہ گذر گیا اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔کانفرنس کے آخری دن ۱۴ جون کو میں نے یہ اعلان کیا تھا پھر ان کو ایک یاد دہانی کروائی گئی اور اس یاد دہانی کا جواب دس پندرہ دن کے بعد ایک اور دستخط سے یہ آیا کہ ان صاحب نے جن کے دستخط سے دعوت نامہ آیا تھا مجھے یہ کہا ہے کہ میں ان کی طرف سے آپ کو یہ جواب لکھ دوں کہ چونکہ انہیں اسلام کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں اس لئے آپ نے جو پوائنٹس ، جو نکات اٹھائے ہیں ان کے متعلق جب تک وہ ان پادریوں سے مشورہ نہ کرلیں جو اسلام کے متعلق معلومات رکھتے ہیں اس وقت تک وہ جواب نہیں دے سکتے ان سے مشورہ کرنے کے بعد آپ کو جواب دیں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ساری دنیا میں جماعت پھیلی ہوئی ہے۔ساری دنیا میں ہمارے جو مبلغ ہیں انہیں میں نے لکھا کہ چونکہ دعوت کے جواب میں میں نے کیتھولکس کو بھی شامل کیا ہے اس لئے آپ بڑے پیار کے ساتھ انہیں تبادلۂ خیال کے لئے بلائیں۔اپنے جواب میں بھی میں نے لکھا تھا کہ پیار کے ساتھ اور امن قائم رکھتے ہوئے اس قسم کے تبادلۂ خیالات ہونے چاہئیں۔چنانچہ کیتھولک بشپس کو بھی دنیا کے مختلف حصوں میں لکھا گیا اور ان کا رد عمل یہ تھا کہ اکثر نے جواب ہی نہیں دیا جنہوں نے جواب دیا ان میں سے ایک جاپان کے کیتھولک بشپ ہیں ، ایک برلن کے کیتھولک بشپ ہیں اور بعض اور ہیں جن کے علاقوں کے نام مجھے یاد نہیں۔انہوں نے صاف طور پر لکھ دیا کہ مسیح کی خدائی ہمارا پختہ عقیدہ ہے اس لئے اس معاملہ پر ہم آپ سے کسی قسم کی بات