خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 30 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 30

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۲۸ جنوری ۱۹۷۷ء لیکن ان کی بھی کیا شان تھی۔میں سمجھتا ہوں ہر احمدی کے دل میں یہ تڑپ پیدا ہونی چاہیے کہ جس مقام پر ہمارے برگزیدہ پہنچے تھے، ہم اس مقام سے نیچے نہیں رہیں گے باقی جتنی کوئی قربانی دے گا۔خدا تعالیٰ کی اطاعت میں جتنا کوئی فنا ہو جائے گا اور جتنی کسی میں طاقت اور استعداد ہوگی اس کے مطابق خدا تعالیٰ اس کو روحانی انعام دیتا چلا جائے گا۔جھولیاں بھر جائیں گی اور جگہ نہیں رہے گی۔دینے والا کہے گا اور لو، لینے والے کہیں گے لیں تو رکھیں کہاں۔آخر یہ جو کہا گیا تھا کہ مہدی اتنی دولت تقسیم کرے گا کہ لینے والا کوئی نہیں ہوگا اس کا یہی مطلب تھا کہ روحانی خزائن تقسیم کئے جائیں گے وہ تو مہدی علیہ السلام تقسیم کر گئے۔خدا تعالیٰ کا جو وعدہ اور بشارت تھی وہ تو پوری ہوگئی لیکن بڑا ہی نا سمجھ ہے وہ احمدی جو اپنی جھولی اتنی بھی اپنے رب سے نہیں بھروا تا جتنی اس کی طاقت اور استعداد ہے اور جس کے مطابق وہ خدا تعالیٰ کی رحمتوں کو سمیٹ سکتا ہے۔پس میں احباب جماعت سے یہ کہتا ہوں کہ تم اٹھو اور خدا کی رحمتوں کو سمیٹو اور ہر راہ سے خدا تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ہمارے بزرگوں نے خدا تعالیٰ پر جو تو گل کیا تھا اور اکیلی آواز کے گرد چند آدمی اکٹھے ہو گئے تھے اس سے کم تو کل ہمیں نہیں کرنا چاہیے اور اگر ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہ کچھ خدا کی راہ میں پیش کر دیں جو ہمارے بزرگوں نے پیش کیا تھا تو خدا تعالیٰ ہمیں بھی وہی کچھ دے دے گا جو انہیں عطا کیا گیا تھا۔اب تو زمانہ بدل گیا۔اب تو سمجھنا آسان ہو گیا۔اب تو تو گل کرنے کے لئے ہمارے اندر جرات پیدا ہو گئی حتی کہ ہمارے کمزور آدمی کے اندر بھی جرات پیدا ہوگئی۔ان کے اندر تو کوئی مثال موجود نہیں تھی ہمارے پاس تو ہزاروں مثالیں موجود ہیں ان کے سامنے تو اپنے ملک کی مثال بھی نہیں تھی۔ہمارے سامنے تو ملک ملک کی مثال ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق اسلام کو پھیلا رہا ہے۔میرے پاس باہر سے خطوط اور تصویریں بھی آتی رہتی ہیں کہ جو مشرک تھے بتوں کو جلا رہے ہیں۔افریقہ میں لوگ جن پتھروں کی پوجا کیا کرتے تھے اب آگ جلا کر ان کو اس میں پھینک رہے ہیں۔وہ لوگ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض رکھتے تھے یعنی غیر مسلم اور اسلام کے خلاف غلط پراپیگنڈا کیا جارہا تھا اب وہی لوگ