خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 423
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۲۳ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء کرتی ہو۔یہ تو نا معقول بات ہے۔باقی رہا معاملہ پہلی بیوی کا تو شریعت کہتی ہے کہ تم اس سے پوچھو اور بتاؤ کہ میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں اس سے اجازت لینا ضروری نہیں لیکن اس کا یہ اختیار ہے کہ یا تو یہ کہہ دے کہ ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ رہوں گی ، دوسری شادی کی تمہیں ضرورت ہے یہ تمہارا حق ہے اس لئے تم بے شک دوسری شادی کرو میں روک نہیں بنتی مثلاً حضرت میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ کی پہلی بیوی سے کوئی بچہ نہیں تھا جب دوسری بیوی کا سوال پیدا ہوا تو پہلی بیوی نے کہا بڑے شوق سے دوسری شادی کریں۔چنانچہ دوسری بیوی کے بچوں کو اتنے پیار سے پالا کہ باہر سے آنے والا شخص یہ پہچان ہی نہیں سکتا تھا کہ یہ پہلی بیوی کے بچے ہیں یا دوسری بیوی کے اور اگر وہ کہے کہ میں نہیں رہنا چاہتی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ لکھا ہے وہ طلاق لے لے اور دوسری جگہ لکھا ہے کہ وہ خلع لے لے۔قرآن کریم کے محاورہ میں یہ ہے ہی طلاق۔قرآن کریم کے محاورہ میں ضلع نہیں لیکن طلاق کے جو دو Aspects تھے دو پہلو تھے کہ ایک طلاق وہ ہے جو خاوند اپنی مرضی سے دیتا ہے اور دوسری طلاق وہ طلاق ہے جو بیوی اپنی مرضی سے حاصل کرتی ہے اس لئے انہوں نے مضمون کو سہل بنانے کے لئے خلع کا لفظ بنا لیا یعنی علیحدگی ، لیکن قرآنی محاورہ میں یہ طلاق ہی ہے۔ضلع کا لفظ مجھے تو قرآن کریم میں کہیں نظر نہیں آیا لیکن دو پہلو نظر آئے ہیں اور عقل ہمیں یہ بتاتی ہے اس لئے اگر فقہاء نے اپنی ایک اصطلاح وضع کر لی ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ، بڑا اچھا کیا لیکن دراصل اس کے اوپر طلاق کے قوانین لگیں گے لیکن اگر حالات ایسے ہوں کہ خاوند کا کوئی جرم یا کوئی ایسی ذمہ داری جو اس نے نباہی نہ ہوا ایسا کوئی کیس نہ ہو تو پھر بیوی اپنے شوق سے کہ میں اس طرح علیحدہ ہو رہی ہوں اس لئے مجھے بے شک مہر بھی نہ دو اور جو دے چکے ہو اس میں سے بھی کچھ چیزیں واپس لے لو۔قرآن کریم میں اس کا ذکر ہے بیوی اپنی مرضی سے واپس کر سکتی ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شادی شدہ عورت آئی اُس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اپنے خاوند کے پاس نہیں رہ سکتی۔آپ نے فرمایا اس کے اندر تم نے کوئی اخلاقی سقم دیکھا ہے۔کہنے لگی بالکل نہیں بڑا با اخلاق انسان ہے۔آپ نے فرمایا کیا تمہیں تنگ کرتا ہے۔کہنے لگی