خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 418
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۱۸ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء مہر آپا کو یا ہماری تیسری والدہ تھیں ان کو Disturb کروں اپنی رہائش کے لئے لیکن میرے پرائیویٹ سیکرٹری کا دفتر وہاں تھا۔وہیں سارے کام کرنے پڑتے تھے۔چنانچہ دفتر کے اوپر دو تین کمرے تھے اُن ہی میں ہم ٹکے رہے اس وقت تک جب تک کہ سہولت کے ساتھ سب کا دوسری جگہ انتظام نہیں ہو گیا۔خلافت کے بڑے تھوڑے عرصہ کے بعد غالباً ۱۹۶۶ء میں نومبر کی بات ہے ظہر کی نماز پڑھانے کے بعد میں واپس آیا اور دفتر کے اوپر کمرے میں سنتوں کی نیت جب باندھی تو میرے سامنے خانہ کعبہ آ گیا یعنی کشفی حالت میں نہیں جس میں آنکھیں بند ہو جاتی ہیں بلکہ کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھا یعنی نظارہ یہ دکھایا گیا کہ میرا رخ ایک Angle بائیں طرف اور میں نے سیدھا کر لیا منہ، خانہ کعبہ کی طرف اور نظارہ بند ہو گیا۔میں نے سوچا کہ یہ تو نہیں خدا کا منشا کہ میں ہر دفعہ ( ہمارے مکان قبلہ رخ نہیں بنے ہوئے اپنا خود ہی ایک اندازہ کرنا پڑتا ہے ) آ کر قبلہ ٹھیک کروایا کروں گا۔مطلب یہ ہے کہ میں تمہارا منہ جس مقصد کے لئے تمہیں کھڑا کیا ہے اس سے ادھر اُدھر نہیں ہونے دوں گا۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے خدا تعالیٰ اس جماعت کے جو چھوٹے چھوٹے شعبے ہیں ان کے لئے بڑی غیرت دکھاتا ہے۔ابھی میرے (دوبارہ سفر یورپ پر ) جانے سے پہلے اُس خاندان کا ایک آدمی آیا جس کے بارہ میں میں بتایا کرتا ہوں کہ اُن کا بڑا ہوشیار لڑ کا تھا Top کے نمبر لئے میٹرک میں۔ہمارا کالج لاہور میں تھا۔اس کے والد کو میں ذاتی طور پر جانتا تھاوہ لڑکا ہمارے کالج میں داخل ہو گیا میں نے بڑے پیار سے اُسے داخل کیا۔وہ میرے دوست کا بچہ تھا جو سیالکوٹ کے ایک گاؤں کے رہنے والے اور زمیندار تھے۔اس کے چند رشتہ دار غیر مبائع تھے انہوں نے لڑکے کے باپ کا دماغ خراب کیا۔اس سے کہنے لگے اتنا ہوشیار بچہ سپیرئر سروسز Superior Services کے Competition میں یہ پاس ہونے والا۔کہیں D۔C لگے گا۔تم نے یہ کیا ظلم کیا اپنے بچے کو جا کر احمدیوں کے کالج میں داخل کروا دیا۔جس وقت یہ انٹرویو میں جائے گا لوگوں کو یہ پتا لگے گا یہ ٹی آئی کالج میں رہا ہے اس کو لیں گے نہیں اور یہ دنیوی طور پر ترقی نہیں کر سکے گا۔چنانچہ وہ میرے پاس آ گیا میں خالی پرنسپل نہیں تھا اس کا دوست بھی تھا۔میرے دل میں اس کے بچے کے