خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 29 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 29

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۹ خطبہ جمعہ ۲۸ جنوری ۱۹۷۷ء ہزار سے اوپر۔پس وہ جوا کیلا تھا ملک ملک میں ہزاروں بن گیا ، بعض جگہ لاکھوں بن گیا۔غانا میں ۱۹۶۲ء میں ان کی حکومت کی جو مردم شماری کی رپورٹ تھی اس میں انہوں نے بالغ احمدی ایک لاکھ انہتر ہزار کے قریب بتائے تھے۔بچے وغیرہ ملا کر آپ خود اندازہ لگا لیں کتنے ہوں گے؟ یہ ۱۹۶۲ء کی بات ہے۔۱۹۷۰ء میں جب میں وہاں گیا تو اُن کا خیال تھا بالغ احمدی تین لاکھ ہو گئے ہیں۔بہر حال اب تک اس سے کہیں زیادہ ہو گئے ہیں۔ٹھیک ہے۔جہاں ان میں بڑے مخلص، دعا گو اور سچی خوا ہیں دیکھنے والے اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے نظارے مشاہدہ کرنے والے بھی ہیں اور ان میں وہ بھی ہیں جو زیر تربیت ہیں۔ایک شخص جو باہر سے آتا ہے احمدی ہوتا ہے اور احمدیت کو قبول کرتا ہے وہ تو صرف تربیت قبول کرنے کا اعلان کرتا ہے۔بعض لوگ سمجھا کرتے ہیں کہ احمدیت میں آنے سے پہلے ہی اسے ولی اللہ بن جانا چاہیے تب اس کی بیعت کروانی چاہیے۔اگر وہ احمدیت سے باہر ولی اللہ بن سکتا ہے تو پھر اسے احمدی ہونے کی ضرورت ہی کوئی نہیں۔بیعت تو صرف اس بات کا اعلان ہے کہ وہ آج احمدیت کی تربیت قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔یہ گویا اس کا پہلا قدم ہوتا ہے پھر کوئی تو ہفتوں میں کوئی مہینوں میں، کوئی سالوں میں اور کوئی اس سے بھی لمبا عرصہ لے کر آہستہ آہستہ تربیت حاصل کرتا ہے اور ایک انقلاب عظیم اس کی زندگی میں بپا ہو جاتا ہے۔بعض ٹوٹ بھی جاتے ہیں اور یہ استثنا تو شروع سے ساتھ لگا ہوا ہے لیکن میں بتا یہ رہا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دعویٰ کیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کے نتیجہ میں اور آپ پر کثرت سے درود بھیجنے کی وجہ سے اور خدا تعالیٰ میں فنا ہونے کی توفیق پا کر خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اپنے ہزاروں بندوں میں سے مجھے اس کام کے لئے منتخب کیا ہے جب کہ میری حالت یہ تھی کہ میں تو اس بات کو پسند کرتا تھا کہ گوشتہ تنہائی میں رہوں اور گمنامی کی حالت میں زندگی کے دن گزار دوں لیکن مجھے خدا تعالیٰ نے کہا۔اٹھ اور کھڑا ہو جا۔میں تجھ سے اشاعت اسلام کا کام لینا چاہتا ہوں۔میں تیرے ساتھ ہوں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانہ کے متعلق جو بشارتیں دی تھیں وہ تیرے ذریعہ اور تیری جماعت کے ذریعہ پوری ہوں گی۔آپ کے اس دعویٰ پر چند آدمی آپ کے ساتھ ہو گئے۔حقہ پانی ان کا بھی بند کیا گیا تھا