خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 371
خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۵ رمئی ۱۹۷۸ء رَحْمَةٌ لِلْعَلَمينَ خطبه جمعه فرموده ۵ رمئی ۱۹۷۸ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔دوست جانتے ہیں مجھے چونکہ ایک دو دفعہ بڑے زور اور شدت سے ہیٹ سٹروک (Heat Stroke) یعنی گرمی لگنے کی تکلیف ہو گئی تھی اس لئے اب گرمی مجھے بہت تکلیف دیتی ہے۔کل بہت گرمی پڑ رہی تھی اور ملاقاتیں بھی تھیں اور اس گرمی میں مجھے کچھ وقت ملاقاتیں کرنی پڑیں چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے ساری رات دوران سر کی تکلیف رہی۔اس بیماری میں ہر چیز گھومتی معلوم ہوتی ہے۔اس وقت بھی اتنی شدت سے تو نہیں تاہم ابھی کچھ تکلیف باقی ہے لیکن اس جمعہ سے میں غیر حاضر نہیں رہنا چاہتا تھا اس لئے یہاں آ گیا ہوں۔مختصراً میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑے عظیم الشان اعلان کئے ہیں۔ایک تو یہ فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وجود تمام عالمین کے لئے ، تمام کائنات کے لئے رحمت بنایا گیا ہے اور دوسرے یہ کہا کہ آپ کی رسالت كَافَةً لِلنَّاس کے لئے ہے وَ مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا ونَذِيرًا (سبا: ۲۹ ) ساری کی ساری نوع انسانی کے لئے آپ رسول ، بشیر اور نذیر ہوکر مبعوث