خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 367
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۶۷ خطبه جمعه ۱/۲۸ پریل ۱۹۷۸ء دروازے ان پر کھولے۔جماعت احمدیہ کے قیام کے بعد ساری دنیا میں جو اشاعت اسلام کے لئے ایک جہاد اور ایک مجاہدہ شروع ہے اس میں بعض پروگرام بعض خصوصی اوصاف کے حامل بھی ہوتے ہیں مثلاً غا نا میں جوان کے سارے ملک کے یا کسی ریجن کے سالانہ جلسے ہوتے ہیں ان کی حیثیت روزانہ کی تبلیغ سے مختلف ہے۔اسی طرح امام وقت باہر جا کر اپنے رنگ میں جو تبلیغ کرتے اور لوگوں سے ملتے اور ان کا دل جیتنے کی کوشش کرتے اور اسلام کی پیاری تعلیم ان کے سامنے رکھتے ہیں اس کا اپنا ایک رنگ ہے۔پھر بعض ایسے مواقع پیدا ہوتے ہیں کہ کوئی واقعہ ہوتا تو کسی ایک ملک میں ہے لیکن اپنے اثر کے لحاظ سے اور اپنے جذب کے لحاظ سے اس کا تعلق ساری دنیا سے ہوتا ہے۔مثلاً ۲، ۱۳ اور ۴ / جون کو لندن میں ایک کانفرنس ہورہی ہے جس میں قرآن عظیم کی تعلیم کی صداقت پر خود عیسائی مصنفین بھی مقالے پڑھیں گے۔بڑے بڑے عیسائی مصنفین نے تحقیق کر کے کتابیں لکھی ہیں کہ قرآن کریم کا بیان سچا ہے۔میں اس کی تفصیل میں تو نہیں جاؤں گا تاہم بڑی ریسرچ ہوئی ہے۔قرآن کریم نے اعلان کیا تھا مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبّه لَهُمُ (النساء : ۱۵۸) که حضرت مسیح کے مخالفین انہیں قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے نہ انہیں صلیب پر مارنے میں کامیاب ہوئے۔اب عیسائیوں کی طرف سے درجنوں ایسی کتابیں لکھی جاچکی ہیں جو کہ انہوں نے بڑی محنت اور کاوش کے بعد تحقیق کر کے شائع کی ہیں اور ان میں انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے مخالف ان کو قتل کرنے میں یا صلیب پر ان کی جان لینے میں کامیاب نہیں ہوئے بلکہ وہ صلیب سے بچ گئے۔قرآن کریم نے حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق امت محمدیہ کو جو تعلیم دی تھی اس کی مخالفت اور وں نے بھی کی تھی لیکن سب سے زیادہ مخالفت عیسائیوں نے کی تھی۔ان کے اپنے کچھ عقائد تھے جن کی روشنی میں انہوں نے مخالفت کی لیکن جیسا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ لِيُظهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله (الصف:۱۰) میں جو بشارت دی گئی ہے اس کا تعلق آخری زمانہ سے ہے، وہ آخری زمانہ جو مسیح اور مہدی کا زمانہ ہے اور اس آخری زمانہ میں اسلام کا مذہب ساری دنیا میں پھیل جائے گا چنانچہ اس زمانہ میں نئی سے نئی تحقیق ہو کر وہ حقائق جو