خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 353
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۵۳ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۸ء تو کہنے لگے کہ انہوں نے اتنابڑ اسکول بنادیا ہے بڑی امیر جماعت ہے، وہاں سے ہمارے دفاتر اور ہسپتال تو نظر نہیں آتے ، پھر کالج آیا تو کہنے لگے اتنا بڑا کالج بنادیا بہت امیر لوگ ہیں۔جس وقت ربوہ کی دولت و امارت پر ان کی تنقید ختم ہوئی تو میں نے انہیں کہا کہ میں یہاں رہتا ہوں اور احمدی ہوں۔ہم واقعی بہت امیر ہیں لیکن ہماری دولت روپیہ نہیں ہے، ہماری دولت وہ رحمتیں ہیں جو ہم خدا سے وصول کرتے ہیں اور وہ برکت ہے جو خدا ہمارے پیسے میں ڈالتا ہے۔میں نے پرانے کالج کی بلڈنگ بنوائی تو وہ ستا زمانہ تھا، اس زمانے میں قریباً پندرہ روپے فٹ کے حساب سے عام عمارت بنتی تھی اور کالج کی عمارت کی تو دیوار میں اونچی تھیں اور چھتیں اور قسم کی تھیں اس پر زیادہ خرچ ہونا چاہیے تھا لیکن میں خود یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ ہمارا سارا خرچ ۶ ، ۷ روپے فٹ کے درمیان آیا۔خدا نے اتنی برکت ڈال دی۔ہمیں یعنی احمدیوں میں جو منتظم ہیں ان کو خرچ کرتے وقت دیکھنا پڑتا ہے اور میرے علاوہ جواب منتظم ہیں ان کو دیکھنا چاہیے مثلاً جب میں افسر جلسہ سالا نہ تھا تو ہم نے اپنی ضرورت کی چیزوں کا با قاعدہ چارٹ بنا کر یہ ذہن میں رکھا ہوا تھا کہ فلاں چیز سال میں فلاں موسم میں سب سے سستی ہے۔مثلاً آلو کی برداشت ۲۰،۱۸ دسمبر سے شروع ہوتی ہے اور سب سے سستا آلوان دنوں میں ہوتا ہے۔کارکنوں کو بعض دفعہ تکلیف بھی ہوتی تھی مگر میں آدمی بھیجتا تھا اور کہتا تھا کہ سب سے سستا لینا ہے جاؤ فی الحال ایک وقت کا لے کر آؤ۔پھر جاؤ اور پھر دوسرے وقت کا لے کر آؤ۔اس طرح ہم سامان اکٹھا کرتے تھے اور ہم نے پتا نہیں کیوں بڑا لمبا عرصہ یعنی میں نے اپنا افسر جلسہ سالانہ کا قریباً سارا زمانہ خالص گھی استعمال کیا ہے، بناسپتی نہیں استعمال کیا اور خالص گھی سرگودھا کی منڈی میں جب سب سے سستا آتا تھا اس وقت ہم لے لیتے تھے۔اسی طرح جس وقت مئی میں گندم کی پیداوار آتی تھی تو اس وقت گندم خرید کر سٹور کر لیتے تھے اس سے بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔جس وقت ایک جنس سال میں سب سے سستی ہے اس وقت اس کو خرید کر سٹور کرنا یہ ہماری ذمہ داری ہے اس کی طرف توجہ کریں اور یہ برکت ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے یہ عقل اور فراست دی ہے کہ خدا کے مال کو ضائع نہیں ہونے دینا اس لئے جو سستے ترین زمانے میں چیز ملاتی