خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 22 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 22

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۲ خطبہ جمعہ ۲۸ / جنوری ۱۹۷۷ء چنانچہ اس مقصد کے پیش نظر وقف عارضی کے ماتحت دوست ربوہ سے سیالکوٹ چلے جاتے ہیں۔سیالکوٹ سے جھنگ آجاتے ہیں۔لائلپور سے سرگودہا چلے جاتے ہیں۔سرگودھا والے دوسرے اضلاع میں مختلف جگہوں پر چلے جاتے ہیں۔غرض جہاں دفتر اپنی سمجھ کے مطابق ضروری سمجھتا ہے وقف عارضی کے وفود کو مختلف جگہوں پر بھیج دیتا ہے۔یہ واقفین وفد کی شکل میں دو افراد پر مشتمل ہوتے ہیں۔اس میں احمدی بہنیں بھی حصہ لیتی ہیں اور ان کو باہر صرف اس صورت میں بھجوایا جاتا ہے جب کہ وہ اپنے خاوندوں کے ساتھ یا والد کے ساتھ یا اپنے بھائی کے ساتھ باہر جاسکیں ورنہ ان سے اپنے ہی شہر یا قصبہ میں عورتوں کی تربیت وغیرہ کے کام لئے جاتے ہیں تا کہ بہنیں بہنوں سے خدا کی رضا کی خاطر حسن معاملہ اور پیار کے تعلقات قائم کریں اس صورت میں ایک حصہ رہ جاتا ہے لیکن جو دوسرے مقاصد ہیں ان میں وہ تھوڑا سا شامل ہوتی ہیں اور فائدہ اٹھاتی ہیں لیکن میرے خیال میں تحریک وقف عارضی میں سینکڑوں ایسی احمدی بہنیں شامل ہوتی ہیں جو باہر جاسکتی ہیں اس لیے کہ ان کے محرم انہیں ایام میں وقف کرنے والے تھے یعنی اُن کے خاوند یا ان کے باپ یا ان کے بھائی یا دوسرے قریبی رشتہ دار جو اسلامی اصطلاح میں محرم تھے۔پس وقف عارضی کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ باہمی تعلقات بڑھیں اور وہ عظیم کام جو خدا تعالیٰ اس وقت جماعت احمد یہ سے لینا چاہتا ہے یعنی یہ کہ نوع انسانی کو ایک خاندان کی طرح بنا دیا جائے اس میں ہماری کوشش بھی شامل ہو ویسے تو یہ خدا کا آسمانوں پر فیصلہ ہے زمین پر تو وہ جاری ہو گا لیکن ہمیں ثواب پہنچانے کی خاطر اللہ تعالیٰ نے خود ہی اپنے فضل اور رحمت سے ہمارے لئے بہت سی راہیں کھول دی ہیں قرآن کریم میں وحی کے ذریعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو اعلان کروایا گیا کہ بشر ہونے کے لحاظ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کسی دوسرے بشر میں کوئی فرق نہیں ، وقت آگیا ہے کہ انسان اس بنیادی حقیقت کو سمجھنے لگے اور وہ معاشرہ ہماری اس زمین پر قائم ہو جائے جسے اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔بہر حال وقف عارضی ایک حقیر سی کوشش ہے اپنے رب کے حضور جو پیش کی جاتی ہے اس امید اور یقین پر کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے گا اور اس کے نیک ثمرات پیدا ہوں گے۔جانے والے بھی فائدہ اٹھائیں گے اور جہاں ان کو بھیجا جاتا ہے وہ بھی اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔