خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 345
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۴۵ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۸ء رکھو اس اجتماعی ذمہ داری کے نباہنے میں خرچ بھی آئے گا اس میں ہم حصہ لیں تا کہ کمزوری نہ پیدا ہو جائے۔میں نے پچھلے خطبہ میں کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد چوتھی نسل کی پیدائش شروع ہو چکی ہے اور اس کو سنبھالنا خاص طور پر ضروری ہے۔خاص طور پر اس لئے کہ چوتھی نسل کے جو بچے پیدا ہورہے ہیں جب وہ جوان ہوں گے یا جب ان میں سے بہت سے جوان ہوں گے ( کیونکہ ہر نسل کے بچے آگے پیچھے پیدا ہوتے ہیں ) تو اس وقت جماعت احمدیہ خدا کی راہ میں اپنی جدو جہد میں اور غلبہ اسلام کے لئے اپنی کوششوں میں ایک ایسے زمانہ میں داخل ہو چکی ہوگی جس کو ہمارے نزدیک غلبہ اسلام کا زمانہ کہا جانا چاہیے۔جیسا کہ میں نے اعلان کیا ہے کہ جماعت احمدیہ کی زندگی کی دوسری صدی غلبہ اسلام کی صدی ہے اور ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں جو کہ غلبہ اسلام کا زمانہ ہے جماعت پرنئی ذمہ داریاں پڑنے والی ہیں اور پہلے سے بھاری ذمہ داریاں پڑنے والی ہیں اور پہلے سے زیادہ وسیع ذمہ داریاں پڑنے والی ہیں۔ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ عنقریب ایسا زمانہ آنے والا ہے جب غلبہ اسلام شروع ہو جائے گا اور ہم امید رکھتے ہیں اور ہم دعائیں کرتے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ جماعت کی زندگی کی دوسری صدی کے اندر (جس کے شروع ہونے میں اب دس گیارہ سال رہ گئے ہیں ) اسلام دنیا کے اکثر حصوں میں غالب آجائے گا۔غالب آنے کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام کی حکومتیں قائم ہو جائیں گی بلکہ غالب آنے کے یہ معنی ہیں کہ اسلام بنی نوع انسان کے دلوں کو موہ لے گا اور بنی نوع انسان کی اکثریت اسی طرح خدا تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے لگے گی جس طرح کہ ہم امید رکھتے ہیں کہ آج احمدیوں کی بڑی بھاری اکثریت خدا اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے والی ہے۔پس جب یہ نئے داخل ہونے والے اسلام کے اندر داخل ہوں گے تو وہ کہیں گے کہ ہمیں اسلام سکھاؤ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے عملی زندگی میں اسلام کے نمونے پیش کرو۔اس وقت جو آج زندہ ہیں ان میں سے خدا جانے کون زندہ ہو گا اور کون نہیں ہو گا لیکن بڑی بھاری اکثریت میں وہ لوگ ہوں گے جن کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں چوتھی نسل سے ہے۔پس