خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 343 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 343

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۴۳ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۸ء قرآن کریم کی ہر بھلائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی مل سکتی ہے خطبه جمعه فرموده ۲۴ مارچ ۱۹۷۸ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اسلامی تعلیم محض ایک فلسفہ نہیں ہے بلکہ اس کی غرض یہ ہے کہ انسان اس پر عمل کر کے اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کرے۔اسلامی تعلیم کا تعلق انسانی زندگی کے ہر شعبہ اور ہر پہلو سے ہے۔اجتماعی زندگی کی اجتماعی ذمہ داریوں سے بھی اس کا تعلق ہے اور فرد فرد کے حقوق بھی یہ بیان کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے جو حقوق انسان پر ہیں ان پر بھی یہ روشنی ڈالتی ہے۔یہ تعلیم اللہ تعالیٰ کے حسن کو ظاہر کرتی اور اس کے احسان کو جو اس نے اپنی مخلوق پر کئے ہیں بیان کر کے خدا تعالیٰ کی ذاتی محبت انسان کے دل میں پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔یہ کامل اور مکمل تعلیم ہے اسی لئے فرمایا کہ الْخَيْرُ كُلُهُ فِي الْقُرْآنِ کہ ہر قسم کی بھلائی قرآن کریم میں پائی جاتی ہے لیکن صرف کتاب میں تعلیم کا ہونا انسان کے لئے کافی نہیں ہے جب تک کہ اس پر عمل کرنے والا ایک کامل نمونہ انسان کے سامنے نہ ہو۔اس لئے کہا كُل بَرَكَةٍ مِّنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ کہ قرآن کریم خیر تو ہے لیکن اس کی ہر خیر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہر قسم کے ادوار میں سے