خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 333
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۳۳ خطبہ جمعہ ۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بطور محسن اعظم خطبہ جمعہ فرموده ۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک محسن اعظم کی حیثیت میں دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ مخلوقات خصوصاً انسانوں کے محسن اعظم ہیں تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کن احسانوں کی وجہ سے آپ احسان کی ان رفعتوں کو پہنچے۔حقیقت یہ ہے کہ تمام احسانوں کا حقیقی سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے لیکن انسان دو طرح سے خدا تعالیٰ کے فضلوں سے دوسروں کو اور خود اپنے آپ کو بھی محروم کر دیتا ہے۔ایک تو دُنیوی لحاظ سے یعنی جو حقوق اللہ تعالیٰ نے قائم کئے ہیں انسان ان حقوق کو پامال کرتا اور ایک دوسرے کا استحصال کر کے اپنی نوع کے دوسرے افراد کو خدا تعالیٰ کے احسانوں، اس کے فضلوں اور رحمتوں اور برکتوں سے محروم کرنے کی سعی کرتا ہے۔چنانچہ بنی نوع انسان کو اس ظلم سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انبیاء کا ایک سلسلہ قائم کیا۔دوسرے اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت بڑے فضلوں کا وارث بنایا ہے۔انسان کے اندر دینی قوتیں اور صلاحیتیں رکھی ہیں جن سے کام لے کر وہ نہ صرف دنیوی لحاظ سے بلکہ روحانی طور پر