خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 16
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۶ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جنوری ۱۹۷۷ء ہمارا یہ ایمان ہے کہ قضا و قدر کو خدا تعالیٰ نے اسباب کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔نظامِ اسباب میں ایک تو مستبب ہے اور ایک اس کا اثر ہے یعنی مؤثر اور متاثر ہونے والی چیزیں جس کو Cause and effect کہتے ہیں۔اس کے ساتھ خدا تعالیٰ نے اپنی قضا و قدر کو باندھا ہے یہ عام قانون ہے۔ہمارا یہ ایمان ہے کہ اللهُ غَالِبٌ عَلی آمرہ ظاہری قوانین قدرت میں جو اسباب ہیں ان کے پیچھے اور بھی ہیں اور ہمیں نہیں پتہ کہ کتنے اسباب چل رہے ہوں گے ظاہر میں جو قوانین چل رہے ہیں بعض دفعہ ان کو اللہ تعالیٰ بدل دیتا ہے اور یہ بھی باطنی قوانین قدرت کے مطابق ہوتا ہے اور ظاہری سامان کا نتیجہ وہ نہیں نکلتا جو عام طور پر نکلا کرتا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا گیا تو بظاہر آگ کا کام یہ ہے کہ وہ ذریعہ ہے اور سبب ہے جلانے کا ، قضا و قدر میں یہ ہے کہ آگ جلائے گی لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق یہ عام قضا و قدر نہیں چلی بلکہ خدا تعالیٰ کا ایک خاص قانون جو اس کی اپنی قضا و قدر پر تصرف کرنے والا تھا آ گیا۔عام حالات میں (ٹھیک ہے کہ ) آگ ہمیشہ جلائے گی سوائے اس وقت کہ جب خدا تعالیٰ کہے کہ نہ جلا پھر وہ نہیں جلائے گی۔خدا تعالیٰ نے جو قوانین قدرت بنائے جو قضا و قدر بنائی وہ خدا تعالیٰ پر تو حاکم نہیں بن جاتی۔حکومت تو اللہ تعالیٰ ہی کی رہتی ہے، ان اسباب کے پیدا کرنے کے بعد بھی جیسا کہ ان اسباب کے پیدا کرنے سے پہلے بھی اسی کی حکومت تھی۔اَلْحُكْمُ لِلهِ ازل اور ابد دونوں کو مستلزم ہے۔میں نے بتایا تھا کہ خدا تعالیٰ کی ذات تو بالائے زمان ومکاں ہے اور اس کا تصور ہماری عقل اور ہماری سمجھ نہیں کر سکتی۔بہر حال الحُكْمُ لِلهِ حکم خدا ہی کا چلتا ہے لیکن کبھی خدا اپنے بندوں کو آزمانا چاہتا ہے، اس کا حکم چلتا ہے اور اس کے بڑے پیارے بندوں کا امتحان لیا جاتا ہے۔اس عظیم ہستی کا بھی امتحان لیا گیا اور اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ابتلا میں ڈالا گیا جس کے متعلق یہ کہا گیا تھا کہ ہر دو جہان اسی کی خاطر پیدا کئے گئے ہیں جس کی خاطر ہر دو جہان کو پیدا کیا گیا اسی کے خلاف مگی زندگی میں ہر دو جہان کو کر دیا گیا اور وہ ہمارے لئے اُسوہ ہے کہ ہم نے اپنے رب سے جو رشتہ اور تعلق قائم کیا ہے اس میں کبھی کمزوری نہیں آنے دیں گے۔یہ تو ہمارا عقیدہ ہے اور ہمارا عزم ہے کہ ہم اس پر قائم رہیں گے اور ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم کبھی بھی اس کے