خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 258
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۵۸ خطبہ جمعہ ۲۸/اکتوبر ۱۹۷۷ء مفروضات پر ہے یعنی انہوں نے بعض باتیں خود ہی فرض کر لی ہیں۔اگر وہ بنیاد بیچ میں سے نکال دی جائے تو علم حساب کی عمارت زمین پر گر پڑتی ہے لیکن اسلام نے یہ نہیں کہا کہ حساب کی بنیاد مفروضات پر ہے۔اسلام نے یہ کہا ہے کہ حساب کی بنیاد حقائق اشیاء پر ہے۔ویسے یہ ایک لمبا مضمون ہے ایک دو فقروں میں ہی اشارہ کر سکتا ہوں۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ مکان اور زمان کے لحاظ سے ایک نسبت قائم ہے اور ان نسبتوں پر حساب کے علم کی بنیاد ہے مثلاً ایک آدمی آج سے پندرہ سال پہلے پیدا ہوا اور ایک پچاس سال پہلے پیدا ہوا۔یہ زمانہ کے لحاظ سے نسبتیں ہیں اور ایک مکان کے لحاظ سے نسبت ہے مثلاً یہ کہ زمین سورج سے اتنی دور ہے اور اس رفتار سے حرکت کر رہی ہے۔پس قرآن کریم کا یہ کہنا کہ حساب کی بنیاد زمانی اور مکانی نسبتوں پر رکھی گئی ہے، ایک عظیم حکمت پر مبنی ہے۔پچھلے دنوں کچھ غیر احمدی طلباء ملنے کے لئے آئے۔وہ سوشیالوجی کے طالب علم تھے۔ان سے بھی میں نے سوال کیا کہ بتاؤ تمہارے علم کی بنیاد کس چیز پر ہے؟ ان میں سے ایک لڑکا گھبرا گیا۔پھر میں نے بتایا کہ دیکھو آج کی مہذب دنیا نے معاشرہ کے موضوع پر کتابیں لکھی ہیں۔انہوں نے اس علم کو مدون کیا اور اسے ایک سائنس اور علم بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے لیکن وہ بھی اس سوال کا صحیح جواب نہیں دے سکتے۔اس کا صحیح جواب اسلام نے دیا ہے۔چنانچہ میں نے ان کو تفصیل سے سمجھایا اور بتایا کہ خواہ دنیا کا کوئی علم ہو قرآن کریم نے ہر علم کے متعلق بنیادی ہدایت دی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرما یا إِنَّا هَدَيْنَهُ السَّبِيلَ ہم نے انسان کو اس کی ذہنی طاقتوں کے مناسب حال ہدایت دے دی ہے اسی طرح اخلاقی طاقتیں ہیں۔انسان کو اخلاقی صلاحیتیں دی گئی ہیں ان کے متعلق قرآن کریم میں بڑی تفصیل سے ہدایت پائی جاتی ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس موضوع پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔قرآن کریم اخلاقیات سے بھرا پڑا ہے۔اخلاق کی حفاظت کیسے کرنی ہے اور ان کو ترقی کیسے دینی ہے، حسن معاملہ کیا ہے۔غرض اخلاقیات کے جملہ پہلوؤں سے متعلق قرآن کریم میں تفصیل سے