خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 252 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 252

خطبات ناصر جلد ہفتم کوئی چیز اس کے آگے انہونی نہیں۔۲۵۲ خطبہ جمعہ ۲۱/اکتوبر ۱۹۷۷ء ہماری دعاؤں کی قبولیت اس بات پر موقوف ہے کہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے مثلاً ایک بیمار ہے اس کے لئے ہم دعا کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ مادی ذرات میں بھی تبدیلی پیدا کر سکتا ہے اور نئی قو تیں اور طاقتیں دے سکتا ہے اور روح میں بھی نئی قوتیں اور طاقتیں پیدا کرسکتا ہے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ کے لئے دعائیں کر کے اس اُمت کے اندر ایک عظیم روحانی انقلاب پیدا کر دیا ہے، یہ ان کی روح کے اندر ہی تھا۔پس وہ ذرات میں نئی قو تیں پیدا کر سکتا ہے وہ ہر چیز کر سکتا ہے جو اس کی عظمت اور ارفع شان کے خلاف نہ ہو اور اسی وجہ سے وہ دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ ایک شخص بیمار ہو جاتا ہے پھر بڑے بڑے ماہر آتے ہیں اور اس کا علاج کرتے ہیں اس کو دوائیاں دیتے ہیں لیکن اس کو آرام نہیں آتا۔یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے دو حکم آسمان سے نازل ہوتے ہیں ایک تو خدا تعالیٰ دوا کو کہتا ہے کہ اس پر اثر نہ کر اور ایک اس بیمار کے جسم کے ذرات کو حکم دیتا ہے کہ اس اثر کو قبول نہ کرو اور وہ علاج میں لگا رہتا ہے۔دو ہفتے گزرے، دو مہینے گزرے اور آرام نہیں آ رہا۔پھر خدا کا ایک بندہ خدا کے حضور جھکتا ہے اور اس بیمار کے لئے دعا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول کر کے ایک طرف دوا کو حکم دیتا ہے کہ اب اس کے لئے مؤثر بن جا اور دوسری طرف بیمار کے جسم کے ذروں کو یہ حکم دیتا ہے کہ اس اثر کو تم قبول کرو چنانچہ وہی دوائیں جو ہفتوں یا مہینوں سے بے اثر ثابت ہو رہی تھیں ان کے اندر ایک اثر پیدا ہو جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ کی صفات پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ہماری روحانی بھلائی کے لئے ایک اور صفت کا پہچاننا بھی ضروری تھا اب میں اس کو لیتا ہوں۔میں نے کہا تھا کہ میں مختصراً یہ مضمون بیان کروں گا کیونکہ خدا تعالیٰ کی غیر محدود صفات کے متعلق تو غیر محدود بیان چاہیے۔نہ آپ کی عمر غیر محدود کہ سن سکیں نہ میری یا کسی اور کی عمر اتنی لمبی کہ وہ سناتا چلا جائے۔خدا تعالیٰ کے جلوے تو غیر محدود ہیں وہ بڑی شان والا ہے۔وہ صفت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ مالک ہے ہر چیز کا مالک اللہ ہے۔وہ ہمارے جسموں کا بھی مالک ہے وہ ہماری جان کا