خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 248
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۴۸ خطبہ جمعہ ۲۱ /اکتوبر ۱۹۷۷ء موافق کام کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی غیر محدود صفات کے جلوے مخلوق ارضی و سماوی پر یعنی کل کائنات پر مؤثر ہو رہے ہیں۔ساری مخلوق پر اثر انداز ہور ہے ہیں۔ان آثار الصفات کا نام سنت اللہ یا قانونِ قدرت ہے یعنی خدا تعالیٰ کی صفات جو ساری مخلوق پر اثر انداز ہورہی ہیں یہ خدا تعالیٰ کی صفات کے آثار ہیں۔اسی کو ہم سنت اللہ یا قانونِ قدرت کہہ سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی صفات میں کوئی تضاد نہیں۔پس ایک طرف تو اس کی صفات کے غیر محدود جلوے اس کی ساری مخلوقات پر اثر انداز ہور ہے اور دوسری طرف ہر چیز اپنے اندر ایک ایسی خاصیت رکھتی ہے کہ جس سے وہ خدا تعالیٰ کی غیر متناہی قدرتوں سے اثر پذیر ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی۔خدا تعالیٰ کا یہ فعل کہ اس کی غیر محدود قدرتوں کے جلوے اس کی مخلوق پر اثر انداز ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا اپنی مخلوق کو ایسا بنادینا کہ اس کی مخلوق خدا تعالیٰ کے بے شمار جلووں سے اثر قبول کرتی رہے۔زمین وآسمان میں جو چیز بھی ہے وہ خدا تعالیٰ کی غیر متناہی قدرتوں سے اثر پذیر ہوتی ہے، پہلے ہوتی رہی اور آئندہ ہوتی رہے گی۔اس سے عقلاً یہ نتیجہ نکلا کہ اشیاء کے جو خواص ہیں، چیزوں کی جو خاصیتیں ہیں وہ کبھی ختم نہیں ہوتیں یعنی انسان ان کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ان میں بے شمار خواص پیدا ہو گئے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے بے شمار جلووں سے خدائی صفات کے غیر محدود جلووں سے انہوں نے اثر قبول کیا ہے پس ان کی خاصیتیں بے شمار ہو گئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خواہ ہم ان پر اطلاع پائیں یا نہ پائیں لیکن ہیں وہ بے شمار۔آج کل سائنس میں بہت تحقیق ہو رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ خشخاش کا دانہ لے لو۔اس پر جتنی تحقیق ہو چکی ہے اس سے کہیں زیادہ خشخاش کے دانے کے اندر خواص ہیں کیونکہ ہر چیز میں بے شمار خواص ہیں۔چنانچہ عرصے عرصے کے بعد انسانی تحقیق اور علم کے میدان میں اس کی کوشش کی جو تصویر نظر آتی ہے وہ یہ ہے جیسا کہ میں نے پہلے افیم کی مثال دی تھی کہ ایک وقت میں افیم ایک چیز سمجھی جاتی تھی پھر سائنسدانوں نے تجزیہ کیا۔پھر انہوں نے کہا کہ اس کے اندر چودہ است ہیں۔یہ بھی میں نے ایک دفعہ پڑھا تھا کہ افیم میں چودہ ست پائے جاتے ہیں پھر ان کو تسلی ہو گئی اور مزید تحقیق اور ریسرچ انہوں نے چھوڑ دی۔پھر کچھ عرصے کے بعد سائنسدانوں نے کہا کہ کچھ