خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 239
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۳۹ خطبہ جمعہ ۱۴ /اکتوبر۱۹۷۷ء کے مطابق بڑی عاجزی کے ساتھ جتنی بھی تجھے طاقت ہے میں خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو ایسی صورت میں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اسے یہ کہے کہ نہیں! تو ایمان نہیں لا یا اور یہ کہ ہم کہتے ہیں کہ تو کافر ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعلان کرتے ہیں کہ میں کسی کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم کافر ہو تو اب جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں کہتا ہوں تم کا فر ہو وہ گویا اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا بناتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ ایسے دماغ کو عقل اور سمجھ عطا کرے۔ہمارا کام غصہ کرنا نہیں ہمارا کام دعائیں کرنا اور پیار سے سمجھانا ہے۔دوستوں کو میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اسلام کی اس تعلیم کی روشنی میں جسے میں نے مختصراً ابھی بیان کیا ہے دو دعا ئیں خاص طور پر کریں۔ایک یہ دعا کریں کہ اے خدا! اگر چہ تو نے ہم عاجز بندوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ چاہیں تو ایمان لائیں اور چاہیں تو کفر کی راہوں کو اختیار کریں لیکن اے خدا! ہم تجھ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ تو ہمیں اس بات کی توفیق عطا کر کہ ہم ہمیشہ ہی ہدایت کی راہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں اور دوسری یہ دعا کریں کہ جو لوگ اس وقت قرآن کریم کی صداقتوں کو سمجھ نہیں رہے وہ سمجھنے لگ جائیں۔اس وقت یورپ ، امریکہ، افریقہ، روس، چین اور جزائر میں ایک بہت بڑی دنیا ایسی ہے جو قرآن کریم کی ہدایت سے دور ہے۔ہم کوئی چیز ز بر دستی تو ان پر ٹھونس نہیں سکتے نہ ہی وہ قو میں جو د نیوی لحاظ سے آزاد ہیں کسی زبر دستی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔اے خدا ! دلوں کو پھیرنا تیرے اختیار میں ہے۔جیسا کہ حدیث میں تمثیلی زبان میں بیان ہوا ہے کہ انسان کا دل خدا تعالیٰ کی دو انگلیوں میں ہوتا ہے وہ دائیں طرف حرکت دے تو زاویہ اور بن جاتا ہے اور بائیں طرف حرکت دے تو زاویہ اور بن جاتا ہے۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں ایسی حرکت پیدا ہو کہ اس کے نتیجہ میں ایسا زاویہ بن جائے کہ یہ بھٹکی ہوئی روحیں خدا تعالیٰ کو شناخت کرنے لگیں اور اس کی صفات کی معرفت حاصل کر لیں اور ساری دنیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔اللھم آمین ! روزنامه الفضل ربوه ۱۴ رمئی ۱۹۷۸ء صفحه ۲ تا ۶ ) 谢谢谢