خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 224 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 224

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۲۴ خطبہ جمعہ ۷ اکتوبر۱۹۷۷ء گمراہیوں سے بچاتی ہے۔بعض بے وقوف فلسفی یہ کہہ دیتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ اپنی صفات میں اتنا کامل ہے تو کیا وہ اپنے جیسے اور خدا نہیں پیدا کر سکتا؟ اس کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے متعلق یوں سمجھنا چاہیے کہ وہ ایک ایسا وجود ہے جو کسی دوسرے کی طرف سے مخلوق نہیں بلکہ ازلی اور ابدی طور پر اپنی طرف سے آپ ہی ظہور پذیر ہے اور خدا ہونے کے یہی معنے ہیں کہ وہ ایسا ہو۔جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ آیا خدا اپنی مثل بنانے پر قادر ہے یا نہیں تو اس کی بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تشریح کی ہے۔ویسے یہ ایک موٹی بات ہے کہ اگر اللہ کو جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں اور ہم تسلیم کرتے ہیں اور ہماری فطرت اور عقل تسلیم کرتی ہے ازلی ہونا چاہیے یعنی ہمیشہ سے ہونا چاہیے تو اگر اللہ اپنے جیسا کوئی اور بنالے تو وہ از لی تو نہیں ہوگا اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ عقلاً وہ اپنے جیسا کوئی اور خدا نہیں بنا سکتا کیونکہ جس کو بھی وہ بنائے گا بقول معترضین وہ ازلی نہیں ہو سکتا۔وہ تو پھر اس وقت سے ہو گا جس وقت سے خدا نے اسے بنایا ہے۔اس مسئلہ میں تفصیل میں جائے بغیر ایک عام فہم دلیل ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ اسلام ایک فلسفہ نہیں ہے۔اسلام بے مقصد حقائق کا ئنات بیان نہیں کرتا۔اسلام کی تعلیم بڑی گہری تعلیم ہے اور بڑی وسعتیں رکھنے والی تعلیم ہے اور بڑی حسین تعلیم ہے اور بڑا حسن رکھنے والی تعلیم ہے اور بڑا احسان کرنے والی تعلیم ہے۔پس اسلامی تعلیم جوحسن و احسان سے پر اور حقائق و معارف پر مشتمل ہے، اس لئے دی گئی ہے کہ انسان اس سے فائدہ اٹھائے۔دنیا میں کامیاب اور عاقبت میں سرخرو ہو۔پس خدا تعالیٰ نے اپنی ذات اور صفات کے متعلق قرآن عظیم میں جو کچھ ہمیں سکھایا ہے اور جو بھی تعلیم دی ہے وہ اس لئے دی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کریں، خدا کی عظمت اور جلال کے سایہ میں اپنی زندگیاں گزاریں اور ہر آن لرزاں و ترساں رہیں اور ہمیشہ اس کوشش میں لگے رہیں کہ خدا تعالیٰ جو عظیم ہستی ہے۔بڑی حسین ہستی ہے۔بڑا پیار کرنے والی ہستی ہے۔بڑی دیتا لو ہستی ہے اور بہت بخشش کرنے والی ہستی ہے اس کے ساتھ ہمارا زندہ تعلق پیدا ہو جائے تا کہ جس مقصد کے لئے