خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 212
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۱۲ خطبہ جمعہ ۳۰ ستمبر ۱۹۷۷ء اپنے روحانی حواس سے بھی محسوس کرتے ہیں۔مختلف قسم کے حواس جو خدا تعالیٰ نے انسان کو دیئے ہیں ان کے ذریعے وہ ہمیں اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے۔یہ ہے اسلام کا خدا! ایک زندہ خدا، زندہ طاقتوں والا خدا ! جس کی زندگی کی علامات ہماری اپنی زندگیوں میں ظاہر ہوتی ہیں۔میں نے پہلے بھی ایک دفعہ بتایا تھا بعض دفعہ انسان نا سمجھی کی باتیں کہہ دیتا ہے۔خدا سے پیارے رنگ میں ایک چیز مانگتا ہے اور پھر خدا دے بھی دیتا ہے۔ایک دن میں نے خدا تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ اے خدا! تو نے جسم کی جسمانی لذت کے لئے بہت سی چیزیں پیدا کی ہیں آدمی اچھا کھانا کھا رہا ہو تو وہ ایک لذت محسوس کرتا ہے۔اچھے نظارے دیکھ کر ایک لذت محسوس کر رہا ہوتا ہے۔بے شمار چیزیں ہیں۔میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تیرے عام قانونِ قدرت کے مطابق جو انسان کو اچھی لگنے والی چیزیں ہیں جو اس کی طبیعت میں اور اس کی روح میں سرور پیدا کرتی ہیں ان کے بغیر مجھے تو سرور اور لذت دے اور چند منٹ نہیں گزرے تھے کہ میرا سارا جسم سر سے لے کر پاؤں تک ایک خاص قسم کی لذت اور سرور محسوس کرنے لگ گیا اور قریباً چوبیس گھنٹے تک یہی حالت رہی۔یہ بظاہر چھوٹی سی بات ہے لیکن بڑی عظیم بات بھی ہے۔پس ہمارے خدا کے سامنے کوئی چیز انہونی نہیں ہے۔وہ زندہ خدا، زندہ قدرتوں والا خدا ہے۔اس کی زندگی کی علامات ہمیں اپنے وجود کے اند ر نظر آتی ہیں۔زندہ خدا کی زندہ قدرتوں کے نظارے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہم اس کی طرف کھینچے چلے جاتے ہیں۔خدا تو غنی ہے ،صد ہے، اس کو کسی کی احتیاج نہیں نہ کسی انسان کی نہ سارے انسانوں کی اور نہ بحیثیت مجموعی ساری کائنات کی۔اس کو تو کوئی احتیاج نہیں لیکن ہمیں اس کی احتیاج ہے۔ہمیں ہر آن اس حی وقیوم خدا کی زندہ اور پیاری تجلیات کی ضرورت ہے اور احتیاج ہے۔اسی واسطے میں نے اپنے خطبے کے شروع میں جو آیات پڑھی تھیں ان میں بتایا تھا کہ وَاعْتَصَمُوا بِاللهِ پس دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر کے اس کی زندہ قدرتوں کی تجلیات اپنی زندگیوں میں دیکھنے کے لئے جدو جہد کریں۔اس کے لئے مجاہدہ کریں۔اس کے لئے قربانیاں دیں۔اس کی ناراضگی سے بچنے والے ہوں۔اس کی خوشنودی کو حاصل کرنے والے