خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 211 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 211

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۱۱ خطبہ جمعہ ۳۰ ستمبر ۱۹۷۷ء محبت دو طرح سے ہی پیدا ہوتی ہے حسن سے یا احسان سے۔سوائے خدا کے اور کوئی حسنِ کامل نہیں یا اس کے بعد انسانوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حسین نمونہ ہمارے لئے کامل ہے تا ہم حسن جس شکل میں بھی انسان کے سامنے آئے مثلاً گلاب کا پھول سامنے آتا ہے تو انسان کے دل میں اس کے لئے ایک کشش پیدا ہوتی ہے پسندیدگی اور محبت پیدا ہوتی ہے یا احسان انسان کے دل میں پیار پیدا کرتا ہے۔جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات کا تعلق ہے قرآن کریم نے اس تفصیل کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حسن کو اور اس کے احسان کو بیان کیا ہے اور اس وسعت کے ساتھ اور اس حسن کے ساتھ اس حسن اور احسان کو بیان کیا ہے کہ اس تعلیم کو جاننے کے بعد ایک خوش قسمت انسان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں رہتا کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے رب کریم کے ساتھ ذاتی محبت کا رشتہ قائم کرنے میں غفلت برتے۔اسلام کی خصوصیات کا تیسرا حصہ، پہلا حصہ تعلیم کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات سے تعلق رکھتا تھا، اور یہ تیسرا حصہ خدا تعالیٰ کے زندہ ہونے اور اس کے قادرانہ تصرف ہماری زندگیوں میں نظر آنے کے متعلق قرآن کریم کی اسلامی تعلیم کے بارہ میں ہے اور یہ اسلام کی ایک نمایاں خصوصیت ہے کہ اسلام کا خدا فرضی خدا نہیں کہ بعض منطقی دلائل سن کر کوئی شخص ایمان لایا کہ کوئی خدا ہے۔ایسا خدا اسلام کا خدا نہیں ہے۔اسلام کا خدا فرضی خدا نہیں ہے جو محض قصوں اور کہانیوں کے سہارے سے مانا جاتا ہو۔یہ نہیں ہے کہ محض عقلی دلائل یا محض پرانے قصے ہوں کہ فلاں وقت میں یوں ہوا اور فلاں وقت میں خدا تعالیٰ نے اپنی عظمت کا یا اپنی زندگی کا یہ جلوہ ظاہر کیا اور آج میری زندگی میں خاموشی۔پس اسلام کا خدا فرضی خدا نہیں ہے اور اسے کسی قصے یا کہانی کے سہارے کی ضرورت نہیں۔پہلی بات یہ تھی کہ ہمارا خدا فرضی خدا نہیں ہے۔دوسری چیز یہ ہے کہ اسلام کا خدا ایک زندہ خدا ہے۔ہم اسے محض اپنی خوش عقیدگی کی وجہ سے قبول نہیں کرتے بلکہ اس لئے قبول کرتے ہیں کہ اس زندہ خدا کی زندہ قدرتیں ہماری زندگی کے اندر جلوہ دکھاتی ہیں اور اس کی زندہ طاقتوں کو ہم اپنے حواس سے محسوس کرتے ہیں۔ہم اپنے جسمانی حواس سے بھی محسوس کرتے ہیں اور ہم