خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 189
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۸۹ خطبہ جمعہ ۱۶ ستمبر ۱۹۷۷ء ہر کام چھوٹا ہو یا بڑا اس کے انجام کا مدار قیوم عالم کی رحمانیت اور رحیمیت ہے خطبه جمعه فرموده ۱۶ رستمبر ۱۹۷۷ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔انسان روزانہ ہی مختلف قسم کے کام کرتا ہے مگر جہاں تک علم حاصل کرنے کا تعلق ہے گو انسان ساری عمر ہی علم سیکھتا رہتا ہے لیکن علم سیکھنے کی ایک عمر ہے یعنی کم عمر کے بچے اور نوجوان د نیوی علوم بھی سیکھ رہے ہوتے ہیں اور دینی علم بھی ان کو سکھایا جارہا ہوتا ہے۔پس علم سیکھنا بھی ایک کام ہے۔ہوائی جہاز اڑانا بھی ایک کام ہے۔ہل چلانا بھی ایک کام ہے۔ہزار ہا قسم کے مختلف کام ہیں جو انسان کرتا ہے اور سارا دن ہی کام کرنے میں گزر جاتا ہے الا ماشاء اللہ۔بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو سکتے بیٹھے رہنے کے عادی ہوتے ہیں لیکن عام طور پر انسان کو کوئی نہ کوئی کام کرنا پڑتا ہے اور وہ لوگ جو دعاؤں میں اپنا وقت گزارنے والے ہیں دعا بھی ایک کام ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ تدبیر دعا ہے اور دعا تد بیر ہے۔پس بیسیوں بلکہ سینکڑوں کام ہیں جو ہم روزانہ کرتے ہوں گے۔کوئی کام چھوٹا ہوتا ہے اور کوئی کام بڑا ہوتا ہے۔کوئی کام کم اہمیت کا ہوتا ہے اور کوئی کام زیادہ اہمیت کا ہوتا ہے۔انسانی زندگی ایک مسلسل عمل اور جدو جہد کا نام ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے شروع میں ہمیں سکھایا ہے کہ ہر عمل سے