خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 173 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 173

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۷۳ خطبہ جمعہ ۲ ستمبر ۱۹۷۷ء نہیں ہو سکتی اس لئے وہ اسے عطا کیا جائے چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس کے لئے ماں کا دودھ پیدا کر دیا۔پھر وہ بڑا ہوتا ہے اور درجہ بدرجہ اس کی خوراک بدلتی جاتی ہے اور اس کے طریقے بدلتے جاتے ہیں۔امریکہ میں ڈاکٹروں نے بڑی ریسرچ کی ہے اور یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ۱۸ سال تک کھانے کے لحاظ سے انسان نو عمر یعنی چھوٹی عمر کا سمجھا جانا چاہیے۔خدا تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا ہے که ۱۸ سال تک جسمانی ضرورت کے مطابق احتیاج کا اظہار ہوتا ہے یعنی بچہ کہتا ہے میں نے یہ کھانا ہے اور یہ نہیں کھانا یا اتنی مقدار میں دو اور اتنی بار دو تین گھنٹے یا چھ گھنٹے کے بعد دینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ کئی والدین اپنے ایسے بچے کے ساتھ ملاقات کے لئے آجاتے ہیں جس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ جی ہمارا بچہ کھاتا کچھ نہیں۔میں نے بیسیوں دفعہ ان سے کہا ہے کہ یہ تو کھانے کو تیار ہے تم اسے کھلانے کے لئے تیار نہیں اور پھر جب میں نے پوچھا کہ کیا مانگتا ہے جو آپ نہیں دیتے تو ایک دفعہ ایک بچے کے باپ نے کہا کہ یہ مونگ پھلی کھانا چاہتا ہے اور ہم مونگ پھلی کھانے نہیں دیتے کہ گلا خراب ہو جائے گا۔ایک اور نے کہا کہ اُس کا بچہ بھنے ہوئے چنے کھانا چاہتا ہے اور وہ اُسے بھنے ہوئے چنے نہیں دیتے کہ اس کا پیٹ خراب ہو جائے گا۔حالانکہ بھنے ہوئے چنے جو اُس بچے کی احتیاج ہے اور جن کے کھانے کی اس کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے وہ اس کو ملنے چاہئیں یہ تو سائنس کا اصول ہے لیکن خدا یہ کہتا ہے کہ جو اسے احتیاج پیدا ہوتی ہے یعنی چنے کھانے کی میں نے اس کے لئے چنے پیدا کئے ہیں اور جو مونگ پھلی کی احتیاج پیدا ہوتی ہے اس کے لئے میں نے مونگ پھلی پیدا کی ہے۔یہ سوال ہے احتیاج کا۔یعنی جو حاجت ہے وہ زبان حال سے کہہ رہی ہے کہ اے خدا! مجھے یہ دے اور خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ہر فرد کی ہر حاجت کو پورا ہونے کا سامان پیدا کر دیا گیا ہے۔ویسے فرد فرد کی حاجت میں بھی فرق ہے جیسا کہ میں نے ابھی بچوں کی طبیعتوں کا اختلاف بتایا ہے کہ کوئی مونگ پھلی کھانا چاہتا ہے اور کوئی بھنے ہوئے چنے۔اسی طرح ہر فرد کی جسمانی طور پر بھی، ذہنی طور پر بھی ، اخلاقی طور پر بھی اور روحانی طور پر بھی حاجات مختلف ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کی ہر