خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 163 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 163

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۶۳ خطبہ جمعہ ۲۶ اگست ۱۹۷۷ء پس ایمان دل سے شروع ہوتا ہے اسی لئے قرآن کریم نے بار بار بتایا ہے کہ مخالفین کے حربے اس وجہ سے بھی ناکام ہو جاتے ہیں کہ دلوں پر ان کا اثر نہیں ہوتا بلکہ ان کے تکلیف پہنچانے اور ایذا رسانی کے منصوبے مومنین کے لئے ایک قسم کی جنتوں کے دروازے کھولنے کا موجب بن جاتے ہیں۔غرض دل سے ایمان شروع ہوتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ زبان اس کا اقرار کرے۔حقیقت یہ ہے کہ ایمان باللہ کا محبت الہی اور عشق الہی سے بڑا گہرا تعلق ہے یعنی محض یہ نہیں کہ ایک شخص خدا تعالیٰ پر اس کی ذات اور صفات کی معرفت کے نتیجہ میں ایمان لا یا بلکہ اس کے حسن اور اس کے احسان کو دیکھ کر اس کے ساتھ ایک محبت اور ایک عشق پیدا ہوتا ہے اور جب عشق کا اور محبت کا جذبہ دلوں میں پیدا ہو جائے تو زبانوں پر بہر حال اس کا اظہار ہوتا ہے اور وہ اظہار بے تکلف ہوتا ہے۔اس واسطے جب ایمان دلوں میں داخل ہو جائے تو زبان اس کا اقرار کرتی ہے اور پھر محض اقرار کو وہ انسان کافی نہیں سمجھتا بلکہ اپنے اعمال سے اس بات کی - تصدیق کرتا ہے کہ واقعہ میں اس کے دل کے اندر ایمان داخل ہو چکا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَا لَكُمْ لا تُؤْمِنُونَ بِاللہ نہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ رسول تمہیں اس طرف بلا رہا ہے کہ جس خدا نے تمہیں پیدا کیا جو تمہارا رب ہے اس پر ایمان لاؤ۔صَوَرَكُمْ فَاحْسَنَ صُوَرَكُمْ (المؤمن : ۶۵) وه خدا جس نے تمہیں وجود دیا اور تمہارے اندر بہترین صلاحیتیں پیدا کیں اور جس کا منشاء یہ ہے کہ وہ صلاحیتیں نشو و نما پائیں تا کہ جس غرض کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے اور جس مقصد کے حصول کے لئے اسے یہ استعدادیں اور صلاحیتیں دی گئی ہیں وہ مقصد پورا ہو یعنی انسان کا ذاتی تعلق ، محبت ذاتی اور پیار اور عشق کا تعلق خدا تعالیٰ کے ساتھ پیدا ہو جائے۔وَقَد أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ اگر تم ایمان لاؤ اور ایمان کے حقائق پر غور کرو تو تمہیں معلوم ہو کہ جو کچھ تم سے مطالبہ کیا جارہا ہے وہ تمہاری فطرت کے عین مطابق ہے۔اسی غرض کے لئے تمہاری فطرت کو پیدا کیا گیا تھا اور فطرت کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے اور ان کی نشوونما کی خاطر خدا تعالیٰ اپنے بندے پر ایت بینت یعنی کھلے کھلے نشان نازل کرتا ہے اور