خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 157
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۵۷ خطبہ جمعہ ۱۹ اگست ۱۹۷۷ء شریعتوں اور ہدایتوں میں جو باتیں اور جو صداقتیں مجمل طور پر پائی جاتی تھیں قرآن کریم نے ان کے اجمال کو ڈور کیا اور پوری حقیقت کھول کر انسان کے سامنے رکھ دی اور تیسری بات یہ ہے کہ وَالْفُرْقَانِ۔چونکہ پوری کتاب اور کامل ہدایت جو قرآن میں نازل کی گئی وہ پہلی شریعتوں اور ہدایتوں میں نہیں تھی اس لئے وقت گذرنے پر ان کے اندر اختلاف پیدا ہوا اور چونکہ زمانہ زمانہ کی ہدایت اور ملک ملک کی ہدایت میں فرق تھا اس لئے بنیادی طور پر جو مذہب اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی طرف بھیجا گیا تھا اس کے اندر ایک اختلاف پیدا ہو گیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کچھ کہا، آپ نے کہا کہ اگر کوئی تجھے تھپڑ لگاتا ہے تو تُو بھی اسے تھپڑ لگا اور حضرت عیسی علیہ السلام نے کچھ اور کہا، انہوں نے کہا کہ اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ لگا تا ہے تو تو دوسرا گال بھی آگے رکھ دے۔پس ہدایت میں اور تعلیم میں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی تھی فرق پیدا ہو گیا اور اختلاف پیدا ہو گیا لیکن یہ اختلاف تب پیدا ہوا جب یہود نے حضرت مسیح کے ماننے سے انکار کر دیا اور بدلے ہوئے حالات کے مطابق ان کی اصلاح کے لئے جو حکم نازل ہوا تھا کہ نرمی اختیار کرو تمہارے اندر سختی زیادہ پیدا ہو چکی ہے۔چونکہ انہوں نے حضرت مسیح کو نہیں مانا اس لئے ان کی اس تعلیم کو بھی نہیں مانا اور پہلی تعلیم جو جزو اور غیر مکمل تھی، جو حقیقی تعلیم کا ایک حصہ تھی اس پر قائم رہے اور حقیقی تعلیم کا جو دوسرا حصہ حضرت مسیح لے کر آئے تھے اس کو ماننے سے انکار کیا اور اس طرح اختلاف پیدا ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ تم خدا تعالیٰ کی طرف سے کیسے ہو سکتے ہو جب کہ پہلی شریعتوں سے اس قسم کے اختلاف کرنے والے ہو حالانکہ انسانی فطرت بھی اپنی ترقی یافتہ حالت میں پہلی شریعتوں کے ساتھ پورے طور پر اتفاق نہیں کر سکتی تھی۔اس واسطے تیسری بات قرآن کریم میں یہ پائی جاتی ہے کہ اس نے حق و باطل میں کھلا فرق کر کے ان میں تمیز پیدا کر کے تمام پہلی ہدایتوں کے ماننے والوں میں جو اختلاف پیدا ہو گئے تھے ان کو دور کرنے کا سامان پیدا کر دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کریم کی شکل میں ایک کامل اور مکمل شریعت انسان کے ہاتھ میں دے دی گئی۔ان تینوں باتوں کی تفسیر تو لمبی ہے لیکن میں نے مختصراً ان کی طرف اشارے کر کے آپ کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔