خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 137 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 137

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۳۷ خطبہ جمعہ ۲۹ جولائی ۱۹۷۷ء ایک بڑا مضبوط رشتہ قائم ہے۔غرض اس کائنات میں جو قانون نافذ ہے اس کا کام یہ ہے کہ وہ انسان کی نشو ونما کرے یعنی کائنات کی ہر چیز کو ( مختلف اور بے شمار مخلوقات ہیں ان میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ اس نے اس طرح پر انسانی فطرت کی نشوونما کرنی ہے اور اس طرح ان کے کام آنا ہے۔استعدادوں کو تقویت دینے والا اور وسعت دینے والا اور اس کمال کو پہنچانے والا یہ قانون قدرت خدا تعالیٰ نے بنایا ہے اور اس قانون قدرت کے عمل کے نتیجہ میں انسانی فطرت انسانی قوی یا فطرت انسانی کے قومی اور اس کی استعدادوں میں ایک تقویت پیدا ہورہی ہے۔کمال کی طرف ان کی حرکت ہے اور آدم کی نسل کے انسان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت اپنی فطری استعداد کو کمال تک پہنچا دیا تھا اس لئے انسان کی ہدایت کے لئے قرآن کریم نازل ہوا۔قرآن کریم ہی کے بعض حصے اس تعلیم پر مشتمل ہیں جو پہلوں کو دی گئی تھی۔گو یا خود قرآن کریم کی تعلیم کے بعض حصے ہی مختلف انبیاء کے وقتوں میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آئے ان کی فطری نشو و نما کے لئے کام کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت انسانی فطرت کی استعدادا اپنے کمال کو پہنچ چکی تھی اس لئے پورا قرآن کریم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ایک طرف قوانین قدرت جو کائنات میں نافذ تھے ان کو مسخر کیا گیا انسان کی نشو ونما کے لئے اور اس کی بقا کے لئے اور اس کی قوتوں کی حفاظت کے لئے اور اس کی قوتوں میں جان پیدا کرنے کے لئے اور دوسری طرف انسان کو ایسی فطرت دی گئی اور ایسی استعداد دی گئی کہ ایک طرف وہ قوانین قدرت کے نتیجہ میں کائنات سے استفادہ کر رہی تھی۔اس سے خدمت لے رہی تھی اور دوسری طرف کلام پاک پر عمل کر کے خدا تعالیٰ کے زیادہ سے زیادہ قرب کےحصول کے لئے کوشش کر رہی تھی۔خدا تعالیٰ کے زیادہ سے زیادہ قرب کے حصول کے لئے کوشش کر رہی تھی۔پس فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ کا ایک کمال تو یہ ہے کہ قانون قدرت کلام پاک کی تعلیم کا مؤید ہے اور اس کے کمال کو ظاہر کرنے والا ہے کیونکہ قانون قدرت کا کمال اور کلام پاک کا جو کمال ہے وہ ایک دوسرے کی عظمت کو ثابت کر رہے ہیں۔خدا تعالیٰ کا فضل اس کلام کے ساتھ مل کر ایک عجیب