خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 84
خطبات ناصر جلد ہفتم ۸۴ خطبہ جمعہ ۱۵ را پریل ۱۹۷۷ء غرض قرآن کریم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی بڑی عظیم الشان ہستی ہے۔وہ مالک بھی ہے، بادشاہ بھی ہے۔اس کا ئنات پر اسی کا حکم چلتا ہے۔تم اس کی خاطر ، اس کی رضا کے حصول کے لئے اس کے بتائے ہوئے طریقوں اور تقویٰ کی بنیادوں پر جو کام کرو گے تو وہ تمہیں اس کا بدلہ دے گا خواہ تمہارا وہ فعل ایک ایسے شخص کی بھلائی کے لئے ہے جو تمہارا دشمن ہے اور خود کو تمہارا دشمن سمجھتا ہے۔بعض دفعہ دوسرے سے تعلق رکھنے والے کام حالات کے مطابق اہم بن جاتے ہیں مثلاً جو حالات اس وقت ہمارے ملک کے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہم عام طور پر اپنی دعاؤں میں اپنے ملک کو اور اہل ملک کو یا در کھتے ہیں۔ہم ان کی بھلائی کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ہم اپنے ملک کے استحکام کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔میں احباب جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں۔ہر احمدی اپنے اندر حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ کا جذبہ رکھتا ہے اور خدا کو خوش کرنے کے لئے وہ اپنے ملک سے پیار کرتا ہے لیکن جہاں تک موجودہ نازک دور کا تعلق ہے ہمارے ملک اور اہل ملک کے حالات ہماری دعاؤں کو خاص طور پر بلا رہے ہیں۔ہمارا ملک اور ہمارے اہل ملک ، ہمارے بھائی اور اس ملک کے باشندے زبانِ حال سے ہمیں پکار رہے ہیں کہ ہم ان کے لئے دعا کریں۔اس وقت جس دور میں سے ہم گزر رہے ہیں اور ملک کے جو حالات ہیں قوموں پر ایسے دور آیا کرتے ہیں۔ایسے حالات میں ہر وہ آدمی جو اپنے ملک سے پیار کرنے والا صاحب شعور اور فراست ہے، وہ پریشان ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی اور پاکستان یہ تقاضا کر رہا ہے کہ جسے خدا نے اقتدار دیا ہے وہ اپنے اقتدار کو، حالات کو معمول پر لانے اور ملک کے استحکام کے لئے استعمال کرے۔جو لوگ سیاستدان ہیں اور سیاست میں پڑے ہوئے ہیں وہ اپنی سیاست کو ملک کے استحکام کے لئے اور امن کے قیام اور فساد کو دور کرنے کے لئے خرچ کریں لیکن جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے نہ تو یہ صاحب اقتدار ہے اور نہ سیاست سے دلچسپی لینے والی جماعت ہے البتہ ہمارے پاس ایک زبر دست ہتھیار ہے اور وہ دعا کا ہتھیار ہے۔پس موجودہ دور جس میں سے ہمارا ملک گزر رہا ہے ہمیں اپنے ملک اور اہل ملک کے لئے