خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 57
خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۷ خطبہ جمعہ ۲۵ مارچ ۱۹۷۷ء سے سب سے بڑا ہے اور غیر محدود ہے گویا ہر ایک بھلائی خدا سے مانگنے سے تعلق رکھتی ہے۔انسان دعا کے ذریعہ بھلائی کے سامان پیدا کرتا ہے اپنے معاشرہ میں اور اس زندگی میں جسے وہ اس جہان میں گزار رہا ہے۔خدا چاہے تو دعا کا اثر ساری دنیا کے انسانوں پر پڑسکتا ہے۔اللہ کے لئے تو یہ چیز آسان ہے اس کے سامنے تو کوئی چیز انہونی نہیں۔پس اگر دعا قبول ہو جائے تو ساری دنیا کی بھلائی کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں۔اس لئے آج میں پھر تاکید کے ساتھ جماعت کو دعا کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ساری دنیا کے انسان کے لئے بھلائی کے سامان پیدا کرے، ایسی بھلائی کے سامان جو اس دنیا میں بھی اس کے لئے بھلائی کے سامان ہوں اور مرنے کے بعد بھی اس کے لئے بھلائی کے سامان ہوں۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو لوگ پہچاننے لگیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت حاصل کرنے کی وہ توفیق حاصل کریں۔پھر دعا کریں دوست اپنے ملک کے لئے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شر اور فساد سے اسے محفوظ رکھے اور اس کے استحکام کے سامان پیدا کرے۔اور پھر تیسرے نمبر پر دوست یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو ہر شر سے محفوظ رکھے اور جماعت کے کسی فرد سے بھی یہ غلطی نہ ہو کہ وہ کسی قسم کے شر اور فساد میں ملوث ہو اور یہ بھول جائے کہ خدا نے اس کو کہا ہے کہ تجھے ہم نے نوع انسان کی بھلائی کے لئے پیدا کیا ہے۔انہیں دکھ دینے ، انہیں ستانے ، انہیں تکلیف میں ڈالنے کے لئے پیدا نہیں کیا۔پس ان تین دعاؤں کے کرنے کی طرف اس وقت میں توجہ دلانا چاہتا ہوں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے میری طبیعت ٹھیک نہیں میں کمزوری محسوس کر رہا ہوں اس لئے اسی پر اب میں اپنے مختصر سے خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(روز نامه الفضل ربوه ۴ رمئی ۱۹۷۷ء صفحه ۶،۵)