خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 49 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 49

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۹ خطبہ جمعہ ۱۸ / مارچ ۱۹۷۷ء صاف ہو کر مرنے کے بعد خدا تعالیٰ کے حضور چلا جاتا ہے اور اصل بات یہ ہے کہ خدا کی رحمت اس کو ڈھانک لیتی ہے کیونکہ اس کے فضل اور اس کی رحمت کے بغیر تو کوئی شخص جنت میں داخل۔نہیں ہوتا۔اور جولوگ خدا سے دوری اختیار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی معرفت انہیں حاصل نہیں، جس مقصد کے لئے انہیں پیدا کیا گیا ہے اسے وہ پہچانتے نہیں، جن راہوں سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوتا ہے ان راہوں سے وہ بے خبر ہیں اور ان کا وہ انجام نہیں ہوتا جس انجام کے لئے انہیں پیدا کیا گیا ہے ان کی اصلاح کی خاطر اللہ تعالیٰ نے جہنم کو پیدا کیا ہے۔استغفار کرنا چاہیے اور دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ کا ایک لحظہ، ایک گھڑی کا قہر بھی کسی کے مقدر میں نہ ہو۔لیکن ایسے لوگ ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح کی خاطر جہنم میں رکھتا ہے پھر جب ان کی اصلاح ہو جاتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرتے ہیں کیونکہ گناہ کا اثر زائل ہو جانے والا ہے اور جو نیکیاں ہیں ان کا اثر دائم رہتا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ قانون بنایا ہے ور نہ اس محدود زندگی میں انتہائی نیکیاں کرنے والے کی نیکیاں بھی اتنی تو نہیں ہوسکتیں کہ ابد الآباد تک کے لئے اللہ تعالیٰ اسے اپنی رضا کی جنتوں میں داخل رکھے۔یہ تو اس کے فضل سے ہی ہوسکتا ہے اور اس کے فضل سے ہی ہوتا ہے۔بہر حال جب گناہ صاف ہوجائیں تو ہر انسان کے اندر شرافت اور نیکی کی جو ایک جڑ ہے ظاہر ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اپنی رحمت سے اس کو ایسا بنا دیتا ہے کہ وہ اس کی جنتوں میں داخل ہو اور اس کے پیار سے حصہ لے۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بتایا ہے کہ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷) میری رحمت نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے اس کی وسعت سے کوئی چیز باہر نہیں۔پس انسان کے ساتھ، مخلوق کے ساتھ خدا تعالیٰ کا جو تعلق ہے وہ رحمت کی بنیاد پر ہے۔اللہ تعالیٰ کی جو صفات قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں جن کی ہمیں تعلیم دی گئی ہے ان میں سے بعض صفات ایسی بھی ہیں جن کا ناراضگی کے ساتھ تعلق ہے لیکن وہ بھی رحمت ہی کا حصہ ہیں کیونکہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کی ناراضگی بہتوں کے لئے اصلاح کا نتیجہ پیدا کرتی ہے اور بہتوں کے لئے جو باقی رہ جاتے ہیں جن