خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 531
خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۳۱ خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۷۸ء ہوتی لیکن آپ ہمارے لئے چار پائیاں کیوں مہیا کرتے ہیں جس طرح باقی مہمان پرالی پرسو رہے ہوتے ہیں ہم بھی پرالی پر سوئیں گے اور دو سال کی بات ہے ایک دن میں وہاں گیا اور کمرے دیکھ رہا تھا تو ایک جگہ میں نے دیکھا کہ ایک غیر ملکی مہمان زمین پر بستر بچھا کر سویا ہوا ہے۔اس کی طبیعت میں جوش آیا کہ یہ کیا کہ ہم چار پائی پر سوئیں اور خدا کی رضا کے حصول کے لئے جتنے بھی مہمان آرہے ہیں وہ بڑی خوشی اور بشاشت کے ساتھ زمین پر پرالی پر سو رہے ہیں لیکن بہر حال ہم نے ان کے لئے انتظام کرنا ہے کیونکہ ہمارے لئے یہ بھی سنت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس اگر کوئی ایسا مہمان آجا تا تھا جس کو پان کھانے کی عادت ہوتی تھی، ان دنوں میں جبکہ بٹالے تک گیارہ میل پیدل چلنا پڑتا تھا تو آپ اس کی اس عادت کی وجہ سے بٹالہ یا بعض دفعہ امرتسر آدمی بھیج کر پان منگوایا کرتے تھے کیونکہ جس حد تک ممکن ہومہمان کو ہر قسم کی تکلیف سے بچانا میزبان کا فرض ہے۔مہمان اپنے جذبات کے ساتھ آتا ہے اور وہ بڑے پیارے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم جو یہاں کے رہنے والے ہیں ہمارے دلوں میں پیارے جذبات نہ ہوں۔ہمارے دلوں میں بھی پیارے جذبات ہونے چاہیے۔ان کے دل کا پیارا جذبہ یہ ہے کہ ہمیں پرالی پر لٹاؤ اور ہمارے دل کا پیارا جذ بہ یہ ہے کہ خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ساری دنیا کی مخالفتوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جو مہمان یہاں آئے ہیں ہم ان کو جہاں تک ہمارے اختیار میں ہو ہر قسم کی تکالیف سے بچانے کی کوشش کریں۔پس ان کے اپنے جذبے ہیں اور ہمارے اپنے جذبے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہی اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا کرے اور ہم سب خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والے ہوں۔پس دس پندرہ دن جو باقی رہ گئے ہیں ان میں صفائی مکمل کر لیں اور بچو اور نو جوا نو اور بڑی عمر والو! جتنے رضا کار ہمیں چاہئیں اتنے ربوہ کو دینے چاہئیں لیکن اگر چاہئیں والا حصہ مثلاً بیس ہزار کا مطالبہ کرتا ہے تو یہاں میں ہزار کی تو آبادی ہی نہیں ہے پندرہ ہزار کی بھی آبادی نہیں اس لئے جو کمی رہ جائے وہ آپ زیادہ وقت دے کر زیادہ تو جہ دے کر اور زیادہ اہلیت کا مظاہرہ کر کے