خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 526 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 526

خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۲۶ خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۷۸ء اس کے بندوں کی بھلائی کے کام کرتا ہے۔غرض ہمیں یہ نظر آ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا اور ساری مخالفتوں اور روکوں کے باوجود جماعت تمہارے جوان ہونے تک عملاً اتنی بڑھ چکی ہوگی کہ بچو! آج تمہارا ذہن بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا جو تمہیں ذمہ داریاں اٹھانی پڑیں کیونکہ جتنی جماعت بڑھے گی اتنے ہی ان کے مربی زیادہ ہونے چاہئیں اور ان کے لئے نمونے بننے چاہئیں۔جولوگ نئے آئیں گے ان کے لئے صرف قرآن کریم کا علم ہی کافی نہیں ہوگا وہ کہیں گے کہ ہم نئے آئے ہیں ہمیں نہیں پتا کہ ہم کس طرح ان ہدایتوں پر عمل کریں اور کس کے نمونہ کے پیچھے چلیں ہمیں نمونہ دو۔ہمارا اصل آئیڈیل تو محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن ہم میں سے ہر شخص کو یہ حکم ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل کر کے آپ کی اتباع کر کے، آپ کی پیروی کر کے، آپ کی طرح زندگی گزار کر تم دوسروں کے لئے نمونہ بنو۔چنانچہ وہ لوگ کہیں گے کہ ہمیں نمونہ بن کر دکھاؤ۔قرآن کریم کے متعلق آیا ہے پایدنی سَفَرَةٍ (عبس:۱۲) کہ دور دور سفر کر نے والوں کے ہاتھ میں بھی یہ کتاب ہے۔یہ بڑی عظیم کتاب ہے۔اس مضمون پر بہت سی آیات ہیں لیکن اس وقت میں ان کے متعلق تفصیلی طور پر کچھ نہیں کہنا چاہتا بلکہ صرف اسی ٹکڑے کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔یہ سفر کرنے والے دو قسم کے ہیں۔ایک وہ لوگ ہیں جو تربیت اور علوم حاصل کرنے کے مراکز سے علم حاصل کرتے اور تربیت حاصل کرتے ہیں اور پھر لمبے سفر کر کے ہر جگہ پہنچتے ہیں تا کہ خدا تعالیٰ کی اس تعلیم کو اس ہدایت کو جو بنی نوع انسان کے قیامت تک کے فائدے کے لئے آئی ہے ان تک پہنچا ئیں اور ایک وہ لمبے سفر کرنے والے ہیں جو ایسے مراکز میں پہنچتے ہیں جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے ماتحت قرآن کریم کی تعلیم دی جاتی ہے اور امت مسلمہ میں ایسے ہزار ہا ہزارہا مراکز تھے جو نہ ہم نے گئے اور نہ گنے جاسکتے ہیں، شاید تاریخ بھی بہت ساروں کو بھول چکی ہوگی۔ہمارے جلسہ سالانہ کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ دنیا کے کونے کونے سے لوگ اس میں شمولیت کے لئے آتے ہیں مثلاً یہاں سے دس ہزار میل دور سے امریکن جلسہ پر آئیں گے اور