خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 522
خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۲۲ خطبه جمعه ۸/دسمبر ۱۹۷۸ء کہ آنے والوں کو بھی اور یہاں کے مکینوں کو بھی نہ صرف جلسہ کے ایام میں بلکہ کبھی بھی کوئی تکلیف نہ پہنچے لیکن قدرت نے جو تدا بیر رکھی ہیں ان کو نظر انداز کرنا بھی اپنی طاقتوں کی ناشکری ہے اور خدا تعالیٰ نے جو احسان کیا ہے اس کی ناشکری ہے۔اس سلسلہ میں قریباً سارے محلوں میں ہی کام ہوا ہے۔کہیں بہت اچھا کام ہوا ہے کہیں اچھا ہوا ہے اور کہیں اس وقت تک نسبتا کمزور ہوا ہے۔جنہوں نے اس وقت تک بہت اچھا کام کیا ہے ان سے میں کہوں گا کہ جلسہ سالانہ تک اس کام کے لئے جتنے ایام باقی رہ گئے ہیں انتظام کی ہدایت کے مطابق اس میں وہ اپنے اس بہت ہی اچھے معیار سے گریں نہ بلکہ ہمیشہ ہی اچھا کام کرتے رہیں اور جنہوں نے بہت اچھا کام نہیں کیا بلکہ اچھا کام ی نسبتا کمزور کام کیا ہے ان سے میں کہتا ہوں کہ ہمارے کان میں تو کام کے متعلق خدا تعالیٰ کی یہ آواز آتی ہے کہ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ (البقرة : ۱۴۹) پس نیکی کے کاموں میں کسی کو آگے بڑھنے دینا اور دل میں یہ خیال پیدا نہ ہونا کہ ہم کیوں پیچھے رہ گئے ہیں۔یہ بھی ایک ایسی کمزوری ہے جسے خدا تعالیٰ پسند نہیں کرتا بلکہ خدا تعالیٰ تو اس چیز کو پسند کرتا ہے کہ اس کے سارے ہی بندے خیرات میں ، نیکیوں میں، بھلائی میں، دوسروں کے لئے مفید کاموں میں اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کی تلاش میں ہمیشہ ہی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہیں۔میں نے خود دیکھا ہے کہ بعض دوڑوں میں مثلاً آدھے میل کی دوڑ میں یا ایک میل کی دوڑ میں بعض دفعہ اول پوزیشن پر آنے والا دوسری پوزیشن پر آنے والے سے سو گز آگے ہوتا ہے۔بہت فاصلہ پیچھے چھوڑ کر اول دوم اور سوم آتے ہیں اور جو سوم بھی نہیں وہ بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اور ایسی دوڑ بھی دیکھی ہے کہ جس میں آخری وقت تک یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ ان میں سے کون آگے نکل آئے گا۔وہ بالکل پہلو بہ پہلو دوڑ رہے ہوتے ہیں اور یہی شکل خدا تعالیٰ نیکیوں کے میدان میں آگے نکلنے کی دوڑ میں دیکھنا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو علام الغیوب ہے لیکن انسان کی آنکھ یہ اندازہ نہ لگا سکے کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں کس نے آگے نکل جانا ہے اس طرح آگے پیچھے اور پہلو بہ پہلو ساتھ جڑے ہوئے آگے نکلنے کی