خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 521
خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۲۱ خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۷۸ء جلسہ پر آنے والے مہمانوں کو نہ صرف تکالیف سے بچا ئیں بلکہ ان کے لئے بہترین نمونہ بنیں خطبه جمعه فرموده ۸ / دسمبر ۱۹۷۸ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ایام جلسہ قریب آرہے ہیں اور اللہ کے فضل سے اس کی تیاری ہورہی ہے۔میں نے اس سے پہلے بعض باتوں کی طرف توجہ دلائی تھی جن میں سے ایک بات یہ تھی کہ جلسہ سے قبل سارے ربوہ کی صفائی ہو جانی چاہیے۔سڑکوں کی گزرگاہوں کی اور ان جگہوں کی بھی جو گز رگا ہیں تو نہیں لیکن گزرگاہوں سے نظر آتی ہیں اور وہاں گند پڑا ہوا ہوتا ہے۔اس کا کچھ حصہ تو کمیٹی سے تعلق رکھتا ہے لیکن ہمارا تعلق جماعتی لحاظ سے کمیٹی سے نہیں ہے اس لئے میں تو جماعت سے ہی کہوں گا کہ آپ کا یہ فرض ہے کہ آپ ربوہ کی صفائی کریں اور کسی جگہ بھی گند دکھائی نہ دے، نہ آنکھ کو ، نہ ناک کو اور نہ پاؤں کی حس کو۔میں نے کہا تھا کہ بعض دفعہ راستوں میں گڑھے پڑے ہوتے ہیں اور انسان کو رات کے اندھیرے میں یا کم روشنی میں ٹھیک طرح نظر نہیں آتا۔گڑھے میں پاؤں پھسلتا اور موچ آجاتی ہے اور اس طرح بہت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔اس لئے جہاں تک انسان کے بس میں ہے خود ربوہ والوں کو بھی اور باہر سے آنے والے مہمانوں کو بھی ان تکالیف سے بچانا بہت ضروری ہے۔ویسے تو ہم دعائیں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے دعائیں سنتا بھی ہے