خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 38
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۸ خطبہ جمعہ ۱۱ار فروری ۱۹۷۷ء ۱۹۴۰ ء یا ۱۹۴۲ء میں ان کے والد کی وفات ہوئی۔وہ صاحب کہنے لگے کہ انہوں نے ہمارے اندر احمدیت اس مضبوطی کے ساتھ قائم کر دی ہے دنیا میں خواہ کچھ ہو جائے ہم بھائی اور بہنیں احمدیت کو نہیں چھوڑ سکتے لیکن ہمارا مرکز سے کوئی تعلق نہیں۔خصوصاً والد کی وفات کے بعد ہم بالکل اس طرح ہو گئے ہیں جس طرح کہ احمدیت سے کٹ جاتے ہیں یہ ہمارا حال ہے لیکن یہ کہ ہم احمد بیت کو چھوڑ دیں اور اس کی صداقت جو ہمارے دلوں میں گڑ گئی ہے اس میں کوئی شبہ پیدا ہو جائے یہ نہیں ہوسکتا۔اب اس ایک شخص نے ایسے ماحول میں کہ اس ملک کا ہر دوسرا شخص اس کے خلاف تھا اپنے گھر کے افراد میں ، اپنے خاندان کے افراد میں اس طرح احمدیت گا ڑ دی اور اس طرح ان کی تربیت کی۔یہ نظارہ بھی ہمیں نظر آتا ہے اور یہ ممکن ہے اگر کہیں کوئی کمزوری ہے تو وہ ہماری اپنی کمزوری ہے۔اتنی زبر دست اسلامی طاقت جو اس زمانہ میں ظاہر ہوئی ہے وہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے ظاہر ہوئی ہے۔عیسائی بات نہیں کرتے ، ڈرتے ہیں بات کرنے سے اور جو د ہر یہ ہیں وہ اب مجبور ہو گئے ہیں کہ ہمارے متعلق غور کریں اور سوچیں۔ہم میں سے جو کمزور ہیں ان کو یہ خوف ہے کہ ہماری کمزوریاں احمدیت سے باہر سامنے آجائیں گی۔بہر حال ایک چھوٹی سی جماعت ہے نہ ان کے پاس پیسہ، نہ ان کے پاس سیاسی اقتدار، نہ ان کے پاس تعداد، نہ ان کے پاس جتھہ، نہ ان کے پاس کوئی ملک، نہ ان کے پاس کوئی فوج، نہ ان کے پاس کوئی مادی ہتھیار اور نہ مادی ہتھیاروں میں ان کو کوئی دلچسپی نہ سیاست میں ان کو کوئی دلچسپی۔آخر وہ کون سی طاقت ہے کہ ایک دنیا ڈرتی ہے کہ پتہ نہیں یہ کیا چیز ہیں۔وہ طاقت ہے صحیح اور حقیقی اسلام کی طاقت ، جس نے آپ کو زمین سے اٹھا کر آسمانوں کی رفعتوں تک پہنچا دیا ہے اور ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا پر عمل کریں۔اس میں دو حکم ہیں کہ اپنے نفسوں کا بھی محاسبہ کرتے رہا کرو اور اپنے معاشرہ میں بھی کبھی گند کو گھنے نہ دینا کیونکہ اس کے بغیر ہماری ذمہ داری ادا نہیں ہوسکتی۔میں تو اس زمانے کی بات کروں گا۔جماعت احمدیہ کی بات کروں گا۔جو میرا عقیدہ ہے اس کی بات کروں گا۔جماعت احمد یہ کی ذمہ داری اس کے بغیر پوری نہیں ہو سکتی۔سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں ملک ملک میں احمدی