خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 504
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۵۰۴ خطبہ جمعہ ۱۷ نومبر ۱۹۷۸ء کی احتیاج ہے مثلاً ہمیں بینائی عطا کی گئی اور آنکھ کو ہمارے جسم کا حصہ بنایا لیکن اسے استعمال کرنے کے لئے اس نے بیرونی طور پر روشنی بھی عطا فرمائی جس کے بغیر ہماری آنکھ دیکھ نہیں سکتی۔اس کا ئنات کی ہر چیز کا ہماری کسی نہ کسی استعداد کے ساتھ تعلق ہے اور ان استعدادوں کو استعمال کرنے کے لئے مناسب تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے لیکن تو کل ہمیں یہ کہتا ہے کہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی یہ سمجھو کہ م نے کچھ نہیں کیا کیونکہ ہماری تدابیر کے نیک نتائج اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں نکل سکتے اور اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام تدابیر اختیار کرنے کے بعد پھر دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے طلب گار بنیں۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ تدبیر دعا ہے اور دعا تدبیر ہے۔جو شخص خدا کے سوا کسی اور پر بھروسہ کرتا ہے وہ مشرک ہے تو حید خالص کا یہ تقاضا ہے۔کہ تدبیر کو بھی اور پھر دعا کو بھی انتہا تک پہنچا دیا جائے۔حضور نے فرمایا:۔ایک احمدی کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ دنیا خدا کی طرف رجوع کرے اور وہ اس کے حسن واحسان کے جلوے دیکھ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم خدا تعالیٰ پر حقیقی معنوں میں تو گل کر کے اپنی تدابیر کو اور اپنی دعاؤں کو انتہا تک پہنچادیں۔حقیقی تو کل کئے بغیر ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ زندہ حقیقی تعلق قائم نہیں کر سکتے۔خدا کرے کہ ہم میں سے ہر ایک تو گل کے مقام پر قائم ہو جائے اور ہمارا اپنے رب کریم سے زندہ اور ذاتی تعلق قائم ہو جائے تا کہ ہم اپنے مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔آمین (روز نامه الفضل ربوه ۱۸ /نومبر ۱۹۷۸ ء صفحه او۶ ) 谢谢谢