خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 500 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 500

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۵۰۰ خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۷۸ء طرح انسان کی ہدایت کے لئے اس کی بہبود کے لئے اس کی دنیوی اور اخروی ہر دو قسم کی ترقیات کے لئے وہ تمام احکام جن کی ضرورت تھی کامل طور پر اس قرآنِ عظیم میں موجود ہیں جسے محمدصلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے۔پس خدا تعالیٰ کی ملک ہونے کی صفت اس کے فعل میں بھی ظاہر ہوئی اور اس کے قول میں بھی ظاہر ہوئی اور یہاں قرآن کریم میں ، اس کے قول میں يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آیتِہ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی تمام صفات کے مظہر اتم ہیں۔اور آپ کے علاوہ ہر انسان نے اپنی اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنی صفات میں پیدا کرنا ہے۔اپنی استعداد سے زیادہ تو وہ نہیں کر سکتا۔پس جب یہ کہا کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ التِهِ تو اس میں یہ اعلان کیا کہ دیکھو محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لے کر آئے ہیں اس میں تمہارے لئے یہ انتظام کیا گیا ہے کہ تم اپنی استعداد کے مطابق خدا تعالیٰ کی ملک ہونے کی صفت کے زیادہ سے زیادہ مظہر بن سکتے ہو۔پھر خدا تعالیٰ کی قدوس ہونے کی، پاکیزہ ہونے کی جو صفت ہے وہ یزکیھم میں ظاہر ہوئی۔یہ تو موٹی بات ہے ہر ایک کو سمجھ آجائے گی کیونکہ یہ معنی کے لحاظ سے برابر ہیں۔وہاں قدوس ہےاور یہاں یزکیھم ہے۔یزکیھم میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ پاک ذات ہے اس تعلیم پر عمل کر کے تم بھی اپنی استعداد کے مطابق زیادہ سے زیادہ طہارت اور پاکیزگی حاصل کر سکتے ہو۔اور وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب اور تم خدا تعالیٰ کی عزیز ہونے کی صفت کے مظہر اتم بن سکتے ہو۔خدا تعالیٰ کے اس قول قرآن میں یہ سامان پیدا کیا گیا ہے۔يُعدّمُهُمُ الْكِتب عزیز کے مقابلہ میں آیا ہے۔پس خدا تعالیٰ جو غالب ہے تم اس کے مظہر اتم بن سکتے ہو۔قرآن کریم میں ایک اور جگہ یہ مضمون بیان ہوا ہے جو بہتوں کو سمجھ آ جائے گا۔چنانچہ فرمایا انتُمُ الْأَعْلُونَ (ال عمران : ۱۴۰) که تم ہی غالب رہو گے۔یہ انتم الاعلون کیا بتا رہا ہے یہی کہ تم خدا تعالیٰ کی اس صفت کے مظہر بن سکتے ہو کہ وہ عزیز ہے اور کوئی اس کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتا۔وہ عزیز اور غالب ہے اور کوئی