خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 37
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۷ خطبہ جمعہ ۱۱ فروری ۱۹۷۷ء کیونکہ ہماری تعداد کم ہے اور ہمارے وسائل کم ہیں۔یہ تمام Handicaps (ہینڈی کیپس) ہیں، یہ تربیت کے راستے کی روکیں ہیں لیکن ان تمام اندرونی روکوں کے باوجود ہمارا فرض ہے اور ہماری کوشش ہونی چاہیے اور ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی نسلوں کو نسلاً بعد نسل سنبھالتے چلے جائیں اور پھر بیرونی سرحدیں ہیں۔چھوٹی سی جماعت ہے جو بڑھ رہی ہے اور بڑھ رہی ہے کافی سرعت کے ساتھ۔خدا تعالیٰ سے دعا کی گئی تھی کہ اک سے ہزار ہوویں اور اب تو اک سے ہزار ہوویں والے نہیں، اک سے لکھوکھا ہو گئے بلکہ ایک کروڑ سے زیادہ ہو گئے۔وہ اکیلا تھا اور ایک صدی ابھی نہیں گزری کہ کروڑ سے زیادہ ساری دنیا میں تعداد ہو چکی ہے اور جماعت پھیلی ہوئی ہے۔اگر ایک جگہ اتنی بڑی آبادی ہوتی تو ان کے لئے اپنا صحیح اسلامی معاشرہ قائم کرنا زیادہ آسان ہو جاتا اور رستے کی روکیں کم ہو تیں لیکن اس طرح بکھرے ہوئے ہیں کہ کہیں دو تین ہی خاندان ہیں۔کہیں ان میں کمزوری پیدا ہوتی ہے اور کہیں ان میں یہ شان نظر آتی ہے کہ افریقہ کے ایک شمال مشرقی ملک کے سربراہ مملکت West Africa (مغربی افریقہ ) کے ایک ملک کے دورے پر گئے۔وہ جس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے اس میں قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ موجود تھا۔وہاں بڑے بڑے ہوٹلوں میں سے قریباً ہر ہوٹل میں ہر کمرے میں قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ وہاں کی جماعتوں نے رکھ دیا ہے اور اس کا بڑا فائدہ ہے جس طرح کہ یہاں ہوا۔چنانچہ سر براہ مملکت کے ساتھ جو دو چار آدمی ان کے ڈیلیکیشن کے تھے ان میں سے ایک نے قرآن کریم کا ترجمہ دیکھا اس پر ہمارے مشن کی مہر لگی ہوئی تھی اور ٹیلیفون نمبر تھا۔انہوں نے مشن کو فون کیا کہ جماعت احمد یہ یہاں بھی قائم ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں قائم ہے اور بہت بڑی ہے۔ان کو پتہ ہی نہیں تھا کہنے لگے کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ جماعت اتنی پھیل گئی ہے۔( میں تربیت کی بات کر رہا ہوں) وہ پھر ملے جماعت کے ساتھ ان کی ملاقاتیں ہوئیں۔وہ کہنے لگے کہ ہمارے والد احمدی ہوئے تھے۔وہاں وہ اکیلا خاندان ہے، ان کے ارد گرد کوئی جماعت نہیں۔شاید ایک دو خاندان اور بھی ہیں لیکن ان کا آپس میں ملاپ کوئی نہیں ہے۔اس ملک میں اکیلا ایک شخص احمدی ہوا وہ کہتے ہیں کہ ہم کئی بھائی اور بہنیں ہیں۔مجھے صحیح یاد نہیں