خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 488 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 488

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۸۸ خطبه جمعه ۳/ نومبر ۱۹۷۸ء سے نہیں لیا جا تا تھا اب کچھ عرصہ سے ربوہ میں لئے جا رہے ہیں۔مجھے افسر صاحب جلسہ سالانہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ بیرونی جماعتوں سے یعنی ربوہ سے باہر پاکستان میں بسنے والی جماعتوں سے پانچ سو کے قریب رضا کار چاہئیں۔میں کہوں گا کہ اگر پانچ سو اور چھ سو کے درمیان رضا کارمل جائیں تو وہ امید کرتے ہیں کہ ان کی ضرورت پوری ہو جائے گی اور پھر کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔یہ کوئی بڑی تعداد نہیں ہے لیکن جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ جو کام کرنے والے باہر سے آئیں وہ موزوں آدمی ہوں۔باہر والوں کو اس قسم کی تربیت نہیں ہوتی جیسی ربوہ میں رہنے والوں کو ہے۔باہر سے جو آئیں گے ان میں سے کچھ تو وہ ہوں گے جو پچھلے سال بھی رضا کار بن کر آئے تھے وہ تو تربیت یافتہ ہیں ان کی فکر نہیں اور جو پہلی دفعہ آئیں گے ان میں کمزور بھی ہوں گے، ناسمجھ بھی ہوں گے، نا تجربہ کا ر بھی ہوں گے اس واسطے امرا صاحبان اور خدام الاحمدیہ کے قائدین ہر دو مل کر ہر لحاظ سے اپنی تسلی کریں۔صرف ان کی مستعدی کو اور ان کے اخلاص کو نہیں دیکھنا بلکہ جلسے کی ضرورت کے لحاظ سے جس قسم کے آدمی وہ سمجھتے ہیں کہ ضروری ہیں اس قسم کے آدمی بھیجیں۔عام طور پر ہمارے امرا تو بہت سے جلسے دیکھ چکے ہیں اور ان کو پتا ہے ان کے دل میں کبھی شکایتیں بھی پیدا ہوئی ہوں گی جن کو وہ خدا کے لئے بھول گئے۔بہر حال وہ تسلی کر کے بھیجیں کہ صحیح نو جوان ہو۔صحیح سے میری مراد یہ ہے کہ جو جلسہ سالانہ کے کام کے لئے موزوں اور مناسب ہو اور یہ ضروری نہیں ہے کہ نو جوان ہی ہو بلکہ بہت سے ایسے کام ہیں جن میں بڑی عمر کے آدمی شاید زیادہ اچھا کام کر سکیں۔کچھ نہ کچھ حصہ تو ثواب میں ان کو بھی ملنا چاہیے جن کو میں جوانوں کے جو ان کہا کرتا ہوں یعنی جن کا انصار اللہ کے ساتھ تعلق ہے۔پس قابلِ اعتماد اور اپنے نفسوں پر قابورکھنے والے غصہ میں نہ آنے والے، پیار سے خدمت کرنے والے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق رکھنے والے اور آپ نے جو جماعت پیدا کی ہے اس کے نظام کے لئے ہر قسم کی تکلیف برداشت کر کے جماعت کے کام کو محض عمل کے ذریعہ نہیں بلکہ حسن عمل کے ذریعہ سرانجام دینے والے رضا کار ہمیں چاہئیں۔باہر کی جماعتیں مہیا کریں گی۔میں آج خطبہ میں ان کو اس طرف توجہ دلا رہا ہوں۔