خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 36 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 36

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۶ خطبہ جمعہ ۱۱ فروری ۱۹۷۷ء ہونے والے ہیں ان کی صحیح تربیت ہونی چاہیے۔ہم تو جانتے ہیں کہ جماعت احمدیہ پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ہے کہ اس کے ذریعہ سے اسلام کے دائرہ سے باہر رہنے والوں میں سے کس کثرت سے لوگ اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں ! ہمارے پاکستان میں رہنے والے نوجوانوں کی توجہ اس طرف کم جاتی ہے۔افریقہ میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جنہوں نے عیسائیت اور بت پرستی چھوڑ کر اسلام کی صداقت قبول کی اور اسلام کے نور سے ان کے سینے منور ہوئے لیکن جب وہ اسلام کو قبول کرتے ہیں تو شروع میں اپنی اپنی استعداد اور ہمت اور توجہ کے مطابق کوئی جلدی جلدی تربیت حاصل کرتا ہے اور کوئی آہستہ آہستہ تربیت حاصل کرتا ہے۔بات کرتے ہوئے جلدی تربیت حاصل کرنے والوں کی مثال یاد آ گئی۔ابھی چند دن ہوئے مغربی افریقہ سے ہمارے ایک مبلغ صاحب کا میرے پاس خط آیا کہ ایک عیسائی مسلمان ہوا اور چند ہفتوں کے بعد جماعت احمدیہ نے وہاں کوئی جلسہ کیا تھا اس میں اس نے تقریر کی اور اسلام کا عیسائیت سے موازنہ اس رنگ میں کیا کہ عیسائیوں کے لئے حیرت کا باعث اور جماعت کے لئے انتہائی خوشی کا باعث بنا۔اللہ تعالیٰ نے اسے عقل اور فراست اور سمجھ اور علم عطا کیا تھا اور توجہ اور محنت اور اسلام کے لئے دل میں پیار اور خدا تعالیٰ کے لئے شکر کے جذبات نے اس طرف توجہ دلائی کہ خدا تعالیٰ نے اندھیرے میں سے نکال کر مجھے نور میں داخل ہونے کی توفیق دی ہے۔جس مذہب میں وہ پہلے تھا یعنی عیسائیت اس کے متعلق وہ پہلے سے کچھ جانتا ہو گا لیکن جس مذہب میں اور جس نور میں وہ داخل ہوا یعنی اسلام اس کے متعلق اس نے بڑی جلدی ، چند ہفتوں کے اندر ہی اتنا علم حاصل کر لیا کہ انہوں نے لکھا ہے کہ ہم سب کے لئے بڑی خوشی کا باعث بنا کہ وہ تقریر میں کس طرح عیسائیت اور اسلام کے درمیان موازنہ اور مقابلہ کر رہا ہے۔بتا میں یہ رہا ہوں کہ ہماری اجتماعی زندگی کی کچھ سرحدیں تو اندرونی ہیں کہ ہمارے بچے پیدا ہوتے ہیں ہمیں ان کی طرف پوری توجہ دینی چاہیے۔وہ بڑے ہوتے ہیں۔جس ماحول میں سے گذر کر وہ پرورش پارہے ہیں وہ بڑا گندا ماحول ہے۔ہماری تعداد بہت کم ہے۔اجتماعی زندگی کا ایک اثر فضا میں بھی پیدا ہو جاتا ہے اس قسم کی فضا تو ابھی ہم قائم نہیں کر سکتے