خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 475
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۷۵ خطبه جمعه ۱/۲۷ کتوبر ۱۹۷۸ء جب مکہ کو چھوڑا تو پھر دنیوی ناطہ سے چھوڑ ہی دیا۔یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ جب مکہ فتح ہو گیا تو مسلمان اپنی جائیدادیں واپس لے سکتے تھے لیکن انہوں نے نہیں لیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس مدینہ چلے گئے۔اگر حالات ایسے ہو جائیں تو اس اُسوہ پر بھی عمل کرنا پڑتا ہے۔اصل چیز یہ ہے کہ ایمان کے معاملہ میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہوتا۔مومن کو بصیرت حاصل ہوتی ہے اور ثبات حاصل ہوتا ہے اور استقامت حاصل ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کے فرشتوں کی حمایت اور نصرت حاصل ہوتی ہے۔مومن اپنے ایمان پر ایسے پختہ ہوتے ہیں کہ دنیا کے زلزلے ان کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہیں پیدا کر سکتے ، ان کو ہلا نہیں سکتے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں یہ فرمایا ہے :۔قُلْ اتَّعَلَّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُم b وَاللهُ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ وَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِیم یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہر نفس اپنے متعلق سب سے زیادہ علم رکھتا ہے مثلاً انسانی خیالات ہیں۔بہت سے انسانی خیالات صحیح ہوتے ہیں۔انسان کے دل میں جوش اور قربانی کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے لیکن بعض دفعہ شبہ والے خیالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔کمزوری والے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ڈر والے بھی پیدا ہوتے ہیں۔عملاً بعض دفعہ انسان ڈرتا نہیں لیکن اس کے دماغ میں آتا ہے اب کیا ہوگا۔کئی لوگوں کو یہ خیال آجاتا ہے اب کیا ہو گا لیکن مومن اس کو ظاہر نہیں ہونے دیتا۔وہ خود تو جانتا ہے کہ اس کے دماغ میں یہ خیال آیا تھا۔انسان کے دل کے اندر بعض دفعہ وسوسہ پیدا ہوتا ہے خواہ معمولی سا ہوتا ہے لیکن وہ کسی کو بتا تا نہیں۔وہ اپنے ایمان پر پختگی سے قائم رہتا ہے لیکن وسوسہ تو پیدا ہوتا ہے۔مومن اس کو جھٹک دیتا ہے۔دل سے نکال کر پرے پھینک دیتا ہے۔اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ اس کے دل میں یہ کیفیت پیدا ہوئی تھی جس سے خدا تعالیٰ کے فضل سے اس نے نجات حاصل کر لی۔انسان سے بعض دفعہ بہت سی کمزوریاں سرزد ہو جاتی ہیں اور وہ ظاہر نہیں ہوتیں تو کوئی شخص بھی دوسرے کے متعلق علم نہیں رکھتا جتنا خود انسان اپنے متعلق علم رکھتا ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی سمجھدار آدمی انکار نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے باوجود اس کے کہ تم میں سے ہر ایک شخص اپنے متعلق سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے العَلِمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُم