خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 474
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۷۴ خطبه جمعه ۱/۲۷ کتوبر ۱۹۷۸ء ہے۔کبھی دنیا کی لالچ کو نیکیوں کی راہ میں حائل کر دیتا ہے۔کبھی اولاد کی محبت دین کے راستوں کو تنگ کر دیتی ہے اور دین سے فرار کی راہوں کو کشادہ کر دیتی ہے۔بہر حال بے شمار طریقے ہیں جو شیطان استعمال کرتا ہے لیکن مومن تو خدا تعالیٰ سے طاقت حاصل کرتا ہے۔وہ راہیں ہزار ہوں یا لاکھوں جن سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے مومن اس کا مقابلہ کرتا ہے اور اُسے شکست دیتا ہے اور 66 ثُمَّ لَم يَرْتَابُوا کے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔پھر اس میں یہ جرات پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ مسلمان ہونے کا اقرار کرے۔اس کے دل میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔نہ اس کے دل میں وسوسہ پیدا ہوتا ہے اور نہ اس کے عمل میں کوئی کمزوری پیدا ہوتی ہے۔پھر فرمایا وَ جَهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللہ مومن یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہے وہ خدا کا ہے اور اس کی راہ میں ہر چیز کو قربان کر دیتے ہیں یا اسی کی اجازت سے استعمال کرتے ہیں اور ہر وقت قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔خدا تعالیٰ یہ قربانی ہر وقت ہر انسان سے تو نہیں مانگتا لیکن کبھی مانگتا بھی ہے لیکن جب مومن خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے ثُمَّ لَم يَرْتَابُوا کے مقام پر پہنچ جاتے ہیں تو اس کے بعد پھر جتنا ہو سکتا ہے وہ خدا کی راہ میں دے دیتے ہیں لیکن نیت یہ ہوتی ہے کہ اگر سب کچھ چلا جائے گا تب بھی خدا کو نہیں چھوڑیں گے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن ہمارے ہاتھ سے نہیں چھٹے گا۔ہم نے قادیان کو چھوڑا۔اس وقت ایسے حالات پیدا ہو گئے تھے کہ ہم دیکھتے تھے ہمارے دین کی راہوں میں اس قسم کی رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں کہ ہم اس جگہ مرکزیت کے لحاظ سے اپنی ذمہ داریوں کو نباہ نہیں سکتے اس لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جیسا کہ پہلے بتایا بھی گیا تھا ہجرت کی اور ربوہ میں آبسے۔اُسوۂ نبوی بھی یہی ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اپنے متبعین کے دین کی حفاظت کے لئے مکہ جیسے شہر کو چھوڑ دیا تھا جہاں خانہ کعبہ تھا جو ساری دنیا کو ایک کرنے کے لحاظ سے مرکزی نقطہ تھا لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ آپ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے لیکن اپنے دین کو نہیں چھوڑا آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے اپنی ساری جائیدادیں، ساری رشتہ داریاں اور سارے تعلقات اور ایسوسی ایشنز کو چھوڑ دیا اور آرام سے مدینہ چلے - گئے اور