خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 462 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 462

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۶۲ خطبه جمعه ۱/۲۰ کتوبر ۱۹۷۸ء جرمنی کے تین مزدوروں کو ایک سال میں ایک لاکھ سے زیادہ اجرت ملتی ہے۔غرض دنیا میں اتنی رقم کی کوئی حیثیت نہیں ہے لیکن خدا تعالیٰ نے اس میں برکت ڈالی اور باہر کی جماعتوں میں آہستہ آہستہ ایک تبدیلی رونما ہونے لگی۔چنانچہ بیرونی ممالک کی جماعتیں مثلاً مغربی افریقہ کی جماعتیں جنہوں نے ۱۹۴۴ء تک ایک پیسہ بھی چندہ نہیں دیا تھا جو ہمارے رجسٹروں میں درج ہو یعنی با قاعدہ چندہ دینے والے اس وقت پیدا نہیں ہوئے تھے اور ان کی ضروریات دینیہ کا سارا بوجھ جماعت ہائے احمد یہ مرکز یہ اٹھا رہی تھیں اس لئے بھی کہ بیرونی ملکوں کی جماعتوں کی اس وقت تک کما حقہ، تربیت نہیں ہو پائی تھی۔تبلیغی ضروریات کے لئے پیسہ باہر بھجوانے پر شروع میں کوئی پابندی نہیں تھی۔چنانچہ جتنی ضرورت پڑتی تھی اتنا پیسہ ہم باہر بھجوا دیتے تھے لیکن پھر زرمبادلہ کے لحاظ سے ساری دنیا کے حالات بدلتے چلے گئے۔صرف ہمارے ملک ہی میں نہیں انگلستان، امریکہ اور جرمنی جیسے ممالک میں بھی حالات بدل گئے لیکن ان ممالک میں ابھی ایسی پابندی نہیں شاید صرف یہ چند ممالک ہی اب ایسے رہ گئے ہیں جنہوں نے اپنی کرنسی کو باہر لے جانے پر کوئی پابندی نہیں لگائی لیکن اکثر ممالک ایسے ہیں جنہوں نے پابندی لگادی ہے اور وہ اپنے ملک کی اقتصادیات کی حفاظت کے لئے اگر پابندی لگائیں تو یہ ان کا حق بھی ہے اور اس کو ایسا کرنا بھی چاہیے۔غرض ۱۹۳۴ء میں ہمیں تو اس بات کا علم نہیں تھا کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کو تو اس کا علم تھا اس لئے وہ لوگ جو ابتدا میں ایک دھیلا بھی خدا کی راہ میں دینے کے لئے ذہنی طور پر تیار نہ تھے وہ چندے دینے لگ گئے اور آج اکثر بیرونی ممالک تو ایسے بھی ہیں جو اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے ہیں۔ان ممالک کے چندے اتنے ہو گئے ہیں کہ اپنی ساری ضروریات پوری کر کے بھی ان کے پاس دوسرے کاموں کے لئے مثلاً اشاعت کتب کے لئے ریز رو ہے جو ان کا اپنا ہے، اس میں سے وہ خود خرچ کرتے ہیں۔صدر انجمن احمد یہ پاکستان کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں نہ انتظامی لحاظ سے تحریک جدید انجمن احمدیہ کا تعلق ہے۔وہ خود اپنے بجٹ بناتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں۔ایک عام نگرانی تحریک جدید بھی کرتی ہے اور خلیفہ وقت بھی کرتا ہے۔وہ دیکھتا ہے، وہ سمجھا تا ہے،ضرورت بتا تا ہے، ان پر خرچ کرواتا ہے۔پس جہاں تک پیسے کا سوال ہے وہ