خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 434 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 434

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۳۴ خطبه جمعه ۱۵رستمبر ۱۹۷۸ء کہہ رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی ان نعمتوں کے یہ جو حسین گلاب کے پھول ہمیں اپنی زندگی میں نظر آتے ہیں ان کو ترو تازہ رکھنے کے لئے اسی طرح اخلاص کے ساتھ قربانیاں دو۔دعائیں کرو خدا تعالیٰ کے حضور۔رزق بھی اسی کا ہے، دولت بھی اسی کی ہے اور خزانے بھی اسی کے ہیں۔سارا جہان اسی کا ہے کسی کا قرضہ وہ رکھتا نہیں۔میرا مضمون یہ نہیں اس لئے میں اس مضمون میں نہیں جاؤں گا۔کئی دفعہ پہلے بھی بتا چکا ہوں زندگی رہی تو آگے بھی بتا تا رہوں گا کہ خدا تعالیٰ کسی کے قرضے نہیں رکھا کرتا لیکن جہاں تک اب پہنچا ہوں یعنی کتنے دن گزرے نصرت جہاں کو۔اعلان کیا تھا میں نے ۱۹۷۰ ء میں قریباً آٹھ سال ہو گئے اور اعلان یہ تھا کہ پیسے دو۔اعلان یہ تھا کہ زندگیاں وقف کرو، استاد بھی اور ڈاکٹر بھی اور کام کی ابتدا عملاً دو سال کے بعد ہوئی تھی۔تو پانچ ، چھ سال کے اندر ایک بڑا انقلاب آگیا ہے ان علاقوں میں اور بڑی قدر پیدا ہوئی ہے۔جماعت کا بڑا اثر ہے اور اب تو ہمارے لئے وہاں یہ مشکل پڑ گئی ہے کہ جو ہمسایہ ممالک ہیں وہاں سے بڑے امیر لکھ پتی لوگ علاج کے لئے ہمارے کلینکس میں آجاتے ہیں یعنی جہاں جہاں ہمارے کلینکس کھولے گئے ہیں وہاں آ جاتے ہیں اور بعض ممالک نے احتجاج کرنا شروع کر دیا ہے کہ تم ہمسایہ ممالک کے مریضوں کا کیوں علاج کرتے ہو اس کا مطلب ہے کہ جتنی مثلاً Indoor کے لئے تیس چار پائیوں کا انتظام ہے تو اگر دس غیر ممالک کو دے دیں تو اس کا مطلب ہے کہ جو اس ہمارے ملک کے Indoor مریض ہیں ان کو یہ چار پائیاں نہیں ملیں گی ، یہ بھی سامنے آ گئی بات۔اللہ تعالیٰ اس کا بھی سامان پیدا کرے گا۔یہ صحیح ہے کہ ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ اس ملک کا کوئی مریض جس کو Indoor مریض کے طور پر داخل کرنا چاہیے اس کے لئے بہر حال چار پائی چاہیے اور اس کو انکار نہیں کرنا چاہیے۔اس کے لئے کمرے اور تیار کریں۔خدا نے پیسے دیئے ہیں خدا کے پیسے اسی کی راہ میں خرچ کرنے ہیں۔پیارا فقرہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہہ گئے ہیں سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے ہم نے اپنے گھر سے تو کچھ خرچ نہیں کرنا، ضرورت ہے خرچ کرو۔خدا تعالیٰ ضرورتوں کو