خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 433 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 433

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۳۳ خطبه جمعه ۱۵ ستمبر ۱۹۷۸ء خرچ ہو رہی تھی۔ہمارے آدمی کام کر رہے تھے۔ایک دھیلا تمہارے پاس سے لے کر نہیں گئے لیکن وہ تو چھپی ہوئی چیزیں تھیں۔اب جو بات کھل کر سامنے آ گئی پانچ کروڑ سے زیادہ رقم وہاں کا بہت بڑا حصہ اٹھانوے فیصد اس کا حصہ وہاں کے جو کلینکس (Clinics) ہیں اُن میں ڈاکٹروں کے ہاتھ میں خدا نے شفار کھی اور ان کے ذریعہ سے یہ مال دیا اور ایک دھیلا وہاں سے باہر نہیں نکالا گیا اور اب بھی باہر سے وہاں جاتا ہے جو خریدنا چاہتے ہیں جراحی کے آلات وغیرہ یا ادویہ وغیرہ یا آپریشن ٹیبل وغیرہ۔کچھ چیزیں ایسی ہیں جو یہاں سے بھجوانی پڑتی ہیں اور اس مد میں سے جاتا ہے۔بس اتناہی رہ گیا ہے کہ اگلے دس سال میں یہ جو آسمانی نالہ تھا ۱۹۷۰ء میں جاری ہوا یہ ایک اور بڑے دریا کے اندر مل جائے گا۔یہ میں بتا چکا ہوں میرے ذہن میں جو منصوبہ ہے وہ یہی ہے کہ یہ ایک حصہ بن جائے گا صد سالہ جو بلی فنڈ کا یعنی صد سالہ جو بلی فنڈ کا تو ہم کہہ جاتے ہیں لیکن صد سالہ جوبلی منصوبہ کا حصہ بن جائے گا۔فنڈ تو اس منصوبہ کا ایک حصہ ہے اور اتنی برکت خدا تعالیٰ نے اس میں دی اور اتنا یہ کام ہورہا ہے لیکن لَقَد خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ۔یہ جماعت احمدیہ کی ذمہ داری ہے کہ خدا تعالیٰ کے اس اعلان کے مطابق اور اس کی روح کے مطابق جس کا ابھی میں نے ایک دو چار کر کے بتایا ہے۔یہ روح ہے اس آیت کے اندر جس کا اعلان کیا گیا ہے اس کے مطابق خدا تعالیٰ کے حضور انتہائی تدبیر اور انتہائی دعائیں پیش کرتے چلے جاؤ۔ایک نسل کے بعد دوسری نسل اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل خدا تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کو حاصل کرتے چلے جاؤ۔بہت دور رس وہ چھوٹی سی سکیم تھی اس وقت تو کسی کو بھی پتا نہیں تھا۔مجھے بھی پتا نہیں تھا۔غیب کا علم تو ہمیں حاصل نہیں ہوتا کہ کیا شکل بنے گی۔ایک چھوٹا سا پھول جس طرح گلاب کا نکلتا ہے یہ بھی پتا نہیں ہوتا کہ زندہ بھی رہے گا یا نہیں۔پھر جس وقت ایک پتی کے بعد دوسری پتی کھلتی ہے اور بیسیوں بعض کی اس سے بھی زیادہ پتیاں نہایت خوبصورت پھول بن جاتا ہے ویسا پھول بن گیا لیکن یہ جو مٹی کے ذروں سے پھول بنے ہوئے ہوتے ہیں ان پر بڑی جلدی موت آجاتی ہے لیکن جو خدا تعالیٰ کی برکتوں کے پھول قوموں کی زندگی کے اندر کھلتے ہیں ان کا قوموں پر انحصار ہے کہ وہ مرجھا جائیں گے یا تر و تازہ رہیں گے۔ایک نسل کے بعد دوسری نسل میں یہ میں آپ کو